جموں و کشمیر کا اختراعی ایکو سسٹم اسکول کی سطح پر عطال ٹنکرنگ لیبز کے ذریعے مسلسل تبدیل ہو رہا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر
سرینگر //لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے کہا کہ معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی ہندوستان کو ایک اختراعی معاشرے میں تبدیل کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان مصنوعی ذہانت ، مختلف شعبوں کیلئے اے آئی کی اہمیت اور ڈیزائن و ترقی تک اپنی رسائی کو وسعت دینے میں عالمی رہنما ہے ۔ لفٹینٹ گورنر کشمیر یونیورسٹی میں اے ٹی ایل سارتھی کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے ۔ یونیورسٹی اے ٹی ایل سارتھی اقدام کیلئے ایک نوڈل ادارہ کے طور پر کام کرتی ہے ، جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ٹرانسفارمیشن آف انڈیا ( نیتی آیوگ ) کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر کے اسکولوں میں اٹل ٹنکرنگ لیبز ( اے ٹی ایل ) کے ساتھ مضبوط نگرانی کے طریقہ کار اور مستحکم ادارہ جاتی روابط قائم کرنے کیلئے تعاون کر رہی ہے ۔ یہ اقدام رہنمائی فراہم کرنے ، اے ٹی ایل اساتذہ کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور طلبہ کو ان کے خیالات کو کمرشل پروٹو ٹائپس میں تبدیل کرنے میں مدد دینے پر توجہ مرکوز کرے گا ۔ اپنے خطاب میں لفٹینٹ گورنر نے ہر اٹل ٹنکرنگ لیب کو رہنمائی اور تربیت کے وسیع تر ایکو سسٹم سے جوڑنے کے مقصد سے شروع کئے گئے اے ٹی ایل سارتھی اقدام کی تعریف کی ۔ انہوں نے کہا ’’ اٹل ٹنکرنگ لیب سابق وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپائی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک مناسب طریقہ ہے ۔ یہ لیبز ہمارے نوجوان طلبہ کو بااختیار بنا رہی ہیں اور انہیں نئی دریافتوں اور خود ترقی کیلئے آلات فراہم کر رہی ہیں اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتیں سکھا رہی ہیں ۔ ہندوستان کی ’ امرت نسل ‘ کی تجسس کو پروھان چڑھا کر ، اے ٹی ایل لیبز ایک ترقی یافتہ اور خواہشمند قوم کی بنیاد رکھ رہی ہیں ‘‘ ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے اسکولوں کی سطح پر اٹل ٹنکرنگ لیبز کے ذریعے اختراعی ماحولیاتی نظام میں ہونے والی مسلسل تبدیلی پر بھی بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ جموں ، اودھمپور ، راجوری ، کلگام ، شوپیاں ، سرینگر اور دیگر کئی اضلاع میں طلبہ کی قیادت میں اختراعات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور طلبہ کو مستقبل کے لئے تیار مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے فرنٹئیر ریجن پروگرام کے تحت جموں و کشمیر کیلئے 100 کروڑ روپے کی لاگت سے 500 اضافی اٹل ٹنکرنگ لیبز کیلئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ اضافی لیبارٹریز جامع جدت میں ایم کردار ادا کریں گی کیونکہ وہ دور دراز اور قبائلی علاقوں میں عطال ٹنکرنگ لیبز شروع کریں گی ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جموں ڈویژن میں عطال ٹنکرنگ لیبز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لیبز خطے کے نوجوانوں کو زراعت ، ہینڈی کرافٹس ، سیاحت اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ جیسے شعبوں میں مقامی مسائل کے موثر حل ایجاد کرنے کے وسیع مواقع فراہم کریں گی ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے واضح کیا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں جدت اب صرف صنعتوں تک محدود نہیں رہی یہ ہمارے معاشرے کا مستقل حصہ بن چکی ہے ۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں ، جو مستقبل کے موجدین ہیں ، سے اپیل کی کہ وہ بھارت سرکار کی طرف سے فراہم کردہ حمایت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اگلے 6 برسوں کیلئے تحقیق ، ترقی اور جدت کیلئے ایک لاکھ کروڑ روپے کا تاریخی فنڈ اعلیٰ ترجیحی شعبوں جیسے کہ توانائی کی حفاظت ، موسمیاتی اقدامات اور کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت جیسے گہرے ٹیکنالوجیز میں ترقی کو تیز کر رہا ہے ۔ انہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے اپیل کی کہ وہ عطال ٹنکرنگ لیب کے اساتذہ کیلئے ہنر کی ترقی اور صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ دے تا کہ ان کی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکے اور تخلیقی صلاحیتوں اور جدت کو فروغ دیا جا سکے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے اٹل ٹنکرنگ لیب کے طلباء کا خصوصی طور پر ذکر کیا کہ انہوں نے مقامی مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جدید حل پیش کئے ۔ انہوں نے اٹل ٹنکرنگ لیب کے طلباء کے جدید منصوبوں کی نمائش کرنے والے اسٹالز کا بھی دورہ کیا اور نوجوان موجدین سے بھی بات چیت کی ۔ اس موقع پر اٹل ٹنکرنگ لیب کے طلباء کی کامیاب اختراعات کو اجاگر کرنے والی ایک کافی ٹیبل بُک کا بھی اجراء کیا گیا ۔ کارپوریٹ اور فاؤنڈیشن پارٹنرز کے نمائندوں نے جموں و کشمیر میں ایک مضبوط اختراعی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کیلئے اپنی سی ایس آر ( کارپوریٹ سماجی ذمہ داری ) کی کوششوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی ۔ مرکزی وزیر مملکت ( آزادانہ چارج ) برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، ارتھ سائینسز ، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ، عملہ عوامی شکایات و پنشن ، ایٹمی توانائی اور خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھی اس تقریب کے آغاز کی زینت بخشی ۔اس موقع پر چیف سیکرٹری ، مشن ڈائریکٹر اٹل انوویشن مشن نیتی آیوگ ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ، وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی ، سیکرٹری سکول ایجوکیشن اور دیگر متعلقین بھی موجود تھے ۔










