dooran

جاوید رانا نے قبائلی بہبود کی سکیموں پر عمل درآمد کیلئے بین محکمہ جاتی تعاون بڑھانے پر زور دیا

جموں//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امورجاوید احمد رانا نے آج چیف سیکرٹری اتل ڈولو کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ منعقد کی جس میں جموں و کشمیر میں قبائلی فلاحی سکیموں اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بین محکمہ جاتی ہم آہنگی اور نگرانی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔یہ میٹنگ حالیہ سیلابی صورتِ حال کے بعد بلائی گئی جس نے قبائلی کمیونٹیوں کو متاثر کرتے ہوئے متعدد علاقوں میں شدید نقصان پہنچایاہے۔وزیر موصوف نے متاثرہ کنبوں کو درپیش مشکلات پر گہری تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے اعلان کردہ بحالی کے اقدامات پر فوری اور مؤثر عمل درآمد کرنے پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ قلیل مدتی اِمداد اہم ہے لیکن طویل مدتی اور دیرپا حکمت عملی تیار کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ آفاتِ سماوی سے بار بار متاثر ہونے والی قبائلی آبادیوں کی مستقل آبادکاری اور تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔وزیر جاوید رانا نے اس بات پر زور دیا کہ اِنتظامیہ کا ردعمل نہ صرف فوری ہونا چاہیے بلکہ وہ ایسے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر مبنی ہو جو طویل مدتی خطرات کو کم کریں اور قبائلی زِندگی کے تحفظ اور وقار کو یقینی بنائیں۔دوران میٹنگ اُنہوں نے کئی اہم شعبوں کی نشاندہی کی جنہیں فوری اِنتظامی توجہ کی ضرورت ہے۔ اِن میں اِنفرادی و اِجتماعی نقصانات، نجی املاک اور عوامی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے لئے معاوضے کی بروقت ادائیگی شامل ہے۔وزیر موصوف نے متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فوری بحالی پر بھی زور دیا اور کہا کہ ان میں تاخیر سے پہلے ہی حساس آبادیوں کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔اُنہوںنے قبائلی فلاحی منصوبوں کے بروقت اور بغیر رکاوٹ عمل آوری کے لئے مضبوط نگرانی کے نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ بین محکمہ جاتی کوآرڈی نیشن ترقیاتی او راِمدادی اَقدامات کامیابی کی کلید ہے اور ایسے نظام کے قیام پر زور دیا جو شفافیت، جوابدہی اور بروقت نتائج کو یقینی بنائے۔ وزیرجاوید رانا نے ہدایت دی کہ یونین ٹیریٹری سطح کے اقدامات کو نیتی آیوگ کی وسیع تر پالیسی ہدایات کے مطابق بالخصوص قبائلی ترقی کے لئے مالی وسائل کی لازمی تقسیم کے حوالے سے ہم آہنگ کیا جائے۔اُنہوں نے قبائلی کمیونٹیوں کے لئے مضبوط اور دیرپا معاون نظام کی تشکیل کے لئے بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں ہدفی سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے حکومت کے جامع ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہدف صرف وقتی ریلیف اقدامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک جامع حکمت عملی اِختیار کی جانی چاہیے جو آفاتِ سماوی سے نمٹنے کی تیاری کو طویل مدتی ترقیاتی منصوبہ بندی کے ساتھ مربوط کرے۔چیف سیکرٹری نے یقین دہانی کی کہ ہدایات کو مزید سختی اور وضاحت کے ساتھ اعادہ کیا جائے گا تاکہ قبائلی کمیونٹیوں کو جموں و کشمیر کی ترقی سے پیچھے نہ رہنے دیا جائے۔