طارق حمید قرہ کا انتظامیہ پر “غیر جمہوری” رویے کا الزام
سرینگر//وی او آئی// جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حمید قرہ نے ہفتہ کے روز الزام لگایا کہ انتظامیہ نے پارٹی کارکنوں کو سری نگر میں واقع کانگریس ہیڈکوارٹر پہنچنے سے روک دیا، جسے انہوں نے “غیر جمہوری” اور “انتظامی مایوسی” کی علامت قرار دیا۔وائس آف انڈیا کے مطابق کانگریس نے ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کے لیے ڈویژنل کمشنر کو یادداشت پیش کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جس کے لیے وادی کے مختلف علاقوں سے کارکنوں کی آمد متوقع تھی۔ تاہم، قرہ کے مطابق، راستے میں ہی کارکنوں کو روک دیا گیا اور پارٹی ہیڈکوارٹر تک محدود کر دیا گیا۔قرہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ ہم پرامن طور پر جمع ہوئے تھے تاکہ اپنا مطالبہ دہرائیں، لیکن ہمیں سڑکوں پر آنے سے روک دیا گیا۔ یہ دباؤ جمہوری نظام میں ناقابل قبول ہے،انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس 21 جولائی کو دہلی مارچ کے ذریعے ریاستی درجہ کی بحالی کی مہم کو مزید تیز کرے گی، جس میں سینئر رہنما شرکت کریں گے۔قرہ نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے خط لکھا، جس سے پارٹی کے موقف کو تقویت ملی۔یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جموں و کشمیر کو 2019 میں یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیے جانے کے بعد سے ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ مسلسل زور پکڑ رہا ہے۔










