سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے محکمہ سکولی تعلیم کی ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں تعلیمی منظرنامے، تدریسی معیار اور جاری اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں سیکرٹری محکمہ سکولی تعلیم، پروجیکٹ ڈائریکٹر سماگراہ شکھشا، ڈائریکٹر سکولی تعلیم کشمیر و جموں، سیکرٹری جے کے بی او ایس اِی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری نے سرکاری سکولوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ کو اپنے سالانہ بجٹ جو کہ تقریباً 11,000 کروڑ روپے ہے، کے مطابق تعلیمی نتائج بھی یقینی بنانے ہوں گے۔اُنہوں نے اساتذہ کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا ،’’جب تک اساتذہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کرتے، کوئی بھی بنیادی ڈھانچہ یا تکنیکی بہتری فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتی۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ تدریس میں اساتذہ کی لگن اور تخلیقی صلاحیت کا کوئی نعم البدل نہیں۔اُنہوںنے اساتذہ کی وقت کی پابندی اور جماعتوں میں گزارے گئے وقت کی سخت نگرانی پر زور دیا۔ اُنہوں نے ہدایت دی کہ آئی ٹی ٹولز کا اِستعمال کر کے ان اساتذہ کی نشاندہی کی جائے جو کام میں لاپروائی، تاخیر یا ذاتی کاموں کے لئے سکول سے غیر مجاز غیر حاضری برتتے ہیں۔چیف سیکرٹری نے واضح ہدایت دی کہ اساتذہ کی حاضری، وقت کی پابندی اور تدریسی عمل کی مؤثر نگرانی کے لئے جدید آئی ٹی استعمال کئے جائیں۔ اِس ضمن میں’جے کے اٹینڈنس ایپ ‘ کے ذریعے 1.14 لاکھ ملازمین روزانہ کی بنیاد پر اَپنی حاضری درج کر رہے ہیں۔اُنہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ دُور دراز علاقوں کے سکولوں کے فزیکل اور آن لائن اَچانک دورے کریں تاکہ سٹاف کی موجودگی اور تدریسی مؤثریت کا جائزہ لیا جا سکے۔
اَتل ڈولونے جدید انفراسٹرکچر جیسے آئی سی ٹی لیبز، کمپیوٹر ایڈیڈ لرننگ لیبز، سمارٹ کلاس رومز، اٹل ٹنکرنگ لیبز اور دیگر دستیاب وسائل کے استعمال کی اہمیت پر زور دیا ۔ اُنہوں نے آئی ٹی ٹیم کو ہدایت دی کہ وہ ایک ڈیش بورڈ تیار کرے جس سے روزانہ کی بنیاد پر سکولوں میں آئی ٹی انفراسٹرکچر کے اِستعمال کی نگرانی کی جا سکے۔ اس وقت، یو ٹی میں 1420 سی اے ایل مراکز، 2036 آئی سی ٹی لیبزاور 4272 سمارٹ کلاس رومز مکمل طور پر فعال ہیں۔ اُنہوں نے پیشہ ورانہ تعلیم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت 15 مختلف شعبوں میں 9ویں سے 12ویں جماعت تک کے 1.41 لاکھ سے زائد طلبأسکولوں میں داخل ہیںجو 15 مختلف پیشوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں، ان کی ملازمت تک مکمل راہنمائی فراہم کی جائے۔چیف سیکرٹری کہاکہ اِی سی سی اِی ماڈل اَپنانے سے قبل مکمل تیاری اور جائزہ ضروری ہے تاکہ پری پرائمری تعلیم اور بچپن کی نگہداشت کو سماجی بہبود محکمہ کے تعاون سے ضم کیا جا سکے۔انہوں نے ہر تعلیمی زون کے لئے نوڈل افسران کی تقرری کی ہدایت دی تاکہ انضمام کی عمل پذیری کو یقینی بنایا جا سکے اور بچوں کے داخلے میں کسی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔ یو ٹی کے 15,550 سکولوں میں پری پرائمری کلاسز شروع کرنے کا منصوبہ ہے اور اِی سی سی اِی سیکشنوں میں 13,804 آیا اورمددگار خواتین تعینات کی گئی ہیں۔
چیف سیکرٹری نے مختلف سکیموں کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کا بھی جائزہ لیا جن میں کستوربا گاندھی بالیکا ودھیالیہ، گرلز ہوسٹلز، جدید انفراسٹرکچراور پی ایم شری سکیم شامل ہیں۔سیکر ٹر ی سکولی تعلیم رام نواس شرما نے تعلیمی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یو ٹی کے 20 اَضلاع کو 188 تعلیمی زونوں (جموں: 97، کشمیر: 91) میں تقسیم کیا گیا ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ قومی شماریاتی تنظیم (این ایس او) کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں خواندگی کی شرح 77.30 فیصد ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر میں 24,137 سکول ہیں (18,724 سرکاری اور 5,413 نجی و دیگر) جن میں 26.17 لاکھ طلبأ (13.56 لاکھ سرکاری اور 12.60 لاکھ نجی سکولوں میں) تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میٹنگ میں مزید بتایاگیا کہ مالی برس 2025-26 ء کے لئے کل بجٹ 11,356.43 کروڑ روپے ہے (بشمول کیپکس اورسی ایس ایس ) اور کل منظور شدہ بجٹ 13,492.27 کروڑ روپے ہے۔ یہ بھی اِنکشاف ہوا کہ سرکاری سکول میں ایک طالب علم پر سالانہ تقریباً 1 لاکھ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں جو قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔مزید بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں پی ایم شری پروگرام کے تحت 396 سکولوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ودھیا سمیکشا کیندر کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ جموں میں مکمل طور پر فعال ہے، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی اور بہتر تعلیمی نتائج کو یقینی بناتا ہے۔ وہاں سے اب تک چار چیٹ بوٹس (سمارٹ اٹینڈنس جے اینڈ کے، جے اینڈ کے سٹیڈی بڈی، فیلڈ مانیٹرنگ بوٹ، جے اینڈ کے پیرنٹ پلس بوٹ) متعارف کئے گئے ہیں۔چیف سیکرٹری نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ جاری اقدامات کی مؤثر نگرانی کرتے رہیں تاکہ جموں و کشمیر میں تعلیمی نظام کو قومی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔










