چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا

سری نگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموںوکشمیر یوٹی میں نیشنل ہیلتھ مشن ( این ایچ ایم)تحت جاری منصوبوں اور حاصل شدہ اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ، مشن ڈائریکٹراین ایچ ایم،گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے پرنسپل، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ،جموں، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ایم ایس سی ایل اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے تمام صحت اِداروں میں ادویات کی بلاتعطل دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت دی کہ ہر ضلع سے ضروری ادویات کی صورتحال پر ہفتہ وار رِپورٹ پیش کی جائے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ضلع مجسٹریٹ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز اور پلاننگ سیکشن کو اس ڈیٹا تک بروقت رسائی حاصل ہو تاکہ کمی کی صورت میں فوری مداخلت کی جا سکے۔اُنہوں نے بائیومیڈیکل ایکوپمنٹ مینجمنٹ اینڈ مینٹی ننس پروگرام (بی اِی ایم ایم پی) کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ اگست تک تمام آلات کی پروفائلنگ مکمل کی جائے تاکہ مریضوں کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیریوٹی کے بڑے ہسپتالوں میں ڈِی این بی (ڈپلومیٹ آف نیشنل بورڈ) کی خالی نشستوں پر تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان نشستوں کو پُرکرنے کے لئے اَقدامات کئے جائیں اور جہاں بیرونی اُمیدوار دستیاب نہ ہوں، وہاں ان سروس میڈیکل اَفسران کو یہ مواقع دئیے جائیں۔اُنہوں نے راشٹریہ بل سواستھیا کاریا کرم (آر بی ایس کے) کے تحت ہر سکول اور آنگن واڑی مرکز کو کور کرنے کی ہدایت دی۔ بچوں کی کم عمری میں بیماریوں جیسے خون کی کمی کی شناخت کے لئے سکریننگ کو لازمی قرار دیا تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔اَتل ڈولونے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ کسی بھی پرائمری ہیلتھ سینٹر یا سب سینٹر کوبالخصوص دور دراز یا پہاڑی علاقوں میں ڈاکٹروں یا مطلوبہ پیرا میڈیکل سٹاف کے بغیر نہیں رہنا چاہیے۔ اُنہوں نے پرائم منسٹر آیوشمان بھارت ہیلتھ اِنفراسٹرکچر مشن (پی ایم۔ اے بی ایچ آئی ایم) کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام منصوبے وقت پر اور معیار کے مطابق مکمل کئے جائیں۔
چیف سیکرٹری نے ای۔سنجیونی (ٹیلی کنسلٹیشن)، ٹیلی۔ماناس ( مینٹل ہیلتھ کونسلنگ)، ٹیلی۔آئی سی یو اور مفت ایمبولینس سروس جیسے پروگراموں کی کارکردگی پر اطمینان کا اِظہار کیا اور ان کی بہتر تشہیر کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ہر ضرورت مند فرد کو فائدہ پہنچے۔سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے بتایا کہ 2024-25 ء میں نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت جموں و کشمیر کو 806.93 کروڑ روپے کی مرکزی اِمداد اور 195.08 کروڑ روپے انفراسٹرکچر مینٹی ننس کے لئے موصول ہوئے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں ادارہ جاتی پیدائشوں کی شرح 99 فیصدہو چکی ہے اور شرح اَموات برائے نوزائیدہ (آئی ایم آر) 16 سے کم ہو کر 14 ہو گئی ہے جو قومی اوسط 26 سے کافی بہتر ہے۔ایچ ایم آئی ایس کے مطابق موجودہ آئی ایم آر 9.35 فی 1000 زندہ پیدائش ہے۔مشن ڈائریکٹر این ایچ ایم بصیر الحق چودھری نے بتایا کہ 86فیصد آیوشمان آروگیہ مندر (اے اے ایمز) جموں و کشمیر میں فعال ہیں اور مفت اَدویات کی تعداد میں نمایاں اِضافہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، اُنہوں نے میٹنگ کو جانکاری دی کہ مالی برس 2024-25 کے دوران ایس ایچ سی۔ اے اے ایمز میں مفت ادویات کی تعداد 23 سے بڑھا کر 96 اور پی ایچ سی۔ اے اے ایمز میں 71 سے بڑھا کر 175 کر دی گئی ہے۔ مفت تشخیصی خدمات کو بھی وسعت دی گئی ہے جس کے نتیجے میں 2023 ء سے لے کر آج تک ان صحت کی سہولیات پر 242.75 لاکھ او پی ڈی کی جانچ کی گئی ہے۔
میٹنگ میں مزید انکشاف ہوا کہ راشٹریہ بال سوستھیا کاریاکرم (آر بی ایس کے) کی ٹیمیں باقاعدگی سے سکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں سکریننگ کرتی ہیںجس میں 2024-25 ء میں 91 فیصد ہدف شدہ مستفیدین (0۔18 سال) کی سکریننگ کی گئی۔اِس کے علاوہ 9.35 لاکھ مریضوں نے مالی برس 2023-24 ء سے جون 2025 ء تک ٹیلی کنسلٹیشن خدمات حاصل کی ہیں اور یہاں آئی ایم ایچ اے این ایس میں قائم ٹیلی ماناس یونٹ کو 103,396 سے زیادہ کالیں موصول ہوئی ہیں۔میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 102۔108 ایمبولینس سروس کے تحت 489 ایمبولینسیں کام کر رہی ہیں۔ نیز 10,164 (90فیصد) آشا نے این آئی او ایس سرٹیفیکیشن کے لئے کوالیفائی کیا ہے جو ملک میں سب سے زیادہ ہے۔میٹنگ کوپی ایم ۔ اے بی ایچ آئی ایم کے تحت اُٹھائے گئے اہم انفراسٹرکچر کی حیثیت کے بارے میں جانکاری دی گئی کہ اِس فلیگ شپ پروگرام کے تحت 10 کریٹیکل کیئر بلاکوںکے علاوہ 20 اِنٹگریٹیڈ پبلک ہیلتھ لیبز اور 287 بلاک پبلک ہیلتھ یونٹس بنائے گئے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ 512.00 کروڑ روپے کے منصوبے ایچ ایس سی سی (انڈیا) لمیٹڈ کو پورے جموںوکشمیریوٹی میں عمل درآمد کے لئے الاٹ کئے گئے ہیں اور یوٹی کے تمام اضلاع میں اس پروگرام کے تحت گزشتہ دو مہینوں میں 200 سے زیادہ کاموں کو ایواڈِڈ کیاگیا ہے اور 150 کام شروع کئے گئے ہیں۔