kashmir

کشمیر میں ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر گیا، تباہی کے دہانے پر ہے قدرتی حسین نظارے

سرینگر/وی او آئی//کشمیر، جو کبھی اپنی قدرتی خوبصورتی اور حسین مناظر کے لیے پہچانی جاتی تھی، اب ایک سنگین ماحولیاتی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ جنگلات کی بے قابو آگ، تیزی سے سکڑتے آبی ذخائر، بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور غیر منصوبہ بند تعمیراتی سرگرمیاں اس جنت نظیر وادی کے قدرتی ماحول کو تباہ کن حد تک نقصان پہنچا رہی ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار اور رپورٹس اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ یہ ماحولیاتی بگاڑ نہ صرف انسانی صحت بلکہ حیاتیاتی تنوع کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے، جس کے نتائج انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔رپورٹوں کے مطابق، 2023 میں جموں و کشمیر میں 112 ہیکٹر جنگلات تباہ ہوئے، جس کے نتیجے میں 68.8 کلوٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوا۔ نومبر 2023 سے جون 2024 تک کے درمیان 4,156 جنگلاتی آگ کے واقعات پیش آئے، جو اوسطاً روزانہ 17 مقامات پر آگ بھڑکنے کے مترادف ہے۔سرینگر میں فضائی آلودگی کی صورتحال بھی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔ 2025 میں شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 89 ریکارڈ کیا گیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 31 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ آلودگی سانس اور دل کی بیماریوں میں اضافہ کر رہی ہے۔پانی کے ذخائر کی صورتحال بھی تشویشناک ہو چکی ہے۔ ولر، ڈل اور انچار جھیلوں کا رقبہ مسلسل سکڑ رہا ہے، جب کہ جنوبی کشمیر کے اچھہ بل میں ایک تاریخی چشمہ حال ہی میں مکمل طور پر خشک ہو گیا، جو قریباً 20 دیہات کے لیے پانی کا واحد ذریعہ تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ولر جھیل پچھلی دو دہائیوں میں اپنے 25 فیصد رقبے سے محروم ہو چکی ہے۔ولر جھیل، جو کبھی 217 مربع کلومیٹر پر محیط تھی، اب صرف 86 مربع کلومیٹر تک سکڑ چکی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق، 1980 سے 2018 کے درمیان ولر جھیل کا رقبہ 25 فیصد کم ہوا ہے۔ جھیل ڈل، جو کبھی 75 مربع کلومیٹر پر محیط تھی، اب صرف 10 مربع کلومیٹر تک محدود ہو چکی ہے۔ یونیورسٹی آف کشمیر کے تحقیقاتی ادارے کے مطابق، جھیل ڈل کا رقبہ 1980 سے 2018 کے درمیان 25 فیصد کم ہو گیا ہے۔پلاسٹک آلودگی بھی وادی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ سیاحتی مقامات اور شہری علاقوں میں پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال، نکاسی آب کے نظام کو مفلوج اور آبی حیات کو متاثر کر رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ “اسمارٹ سٹی” منصوبوں کے تحت بنیادی ماحولیاتی اصلاحات کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو کشمیر نہ صرف اپنی قدرتی شناخت کھو بیٹھے گا بلکہ ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر بھی پہنچ سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جنگلات کی حفاظت، آبی ذخائر کی بحالی، آلودگی پر قابو، اور ماحول دوست پالیسیوں کو فوری طور پر زمینی سطح پر نافذ کیا جائے۔