لیفٹیننٹ گورنر نے ان کشمیریوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی

لیفٹیننٹ گورنر نے ان کشمیریوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی

جن کے پیارے 1990 ء کی دہائی سے پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کئے گئے

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے اُن کشمیری شہریوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی جو گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوںمارے گئے۔ یہ ایک تاریخی قدم ہے جس سے ان ہزاروں معصوم کشمیری شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جو پاکستانی دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔’’سیو یوتھ، سیو فیوچر فاؤنڈیشن‘‘نامی غیر منافع بخش تنظیم دہشت گردی کے متاثرین کے کنبوں کی دستاویزی معلومات جمع کرنے میں اہم رول اَدا کر رہی ہے۔ 1990سے اَب تک زائد اَز 40,000 افراد جن میں شہری، سیکورٹی اہلکار اور بچے بھی شامل ہیں، دہشت گردی کی وجہ سے اَپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ عام کشمیری شہریوں کے قتل کے بیشتر معاملات میں ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس اقدام کا آغاز متاثرہ کنبوں کو اِنصاف دِلانے، ان کے درد کو سننے اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے کیا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’کئی دہائیوں تک ان کنبوںکو نظر انداز کیا گیا ور ان کی آواز نہیں سنی گئی، انہیں انصاف سے محروم رکھا گیا۔ ان کے زخموں پر مرہم نہ رکھا گیا، ان کی داستانیں نہیں سنائی گئیں اور سچ کو جان بوجھ کر دبا دیا گیا۔ آج سینکڑوں کنبے حوصلہ پا چکے ہیں اور بے خوف ہو کر کہہ رہے ہیں کہ ان کے پیارے پاکستانی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ یہ اَفسوسناک ہے کہ 2019 سے پہلے دہشت گردوں کے جنازے نکالنے کی اجازت دی جاتی تھی جبکہ ان ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کو فراموش کیا گیا جنہیں دہشت گردوں نے شہید کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے ان متاثرہ کنبوں کو ہدایت دی کہ جو لوگ سرکاری ملازمت کے اہل ہیں، وہ اَپنے کیس متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروںکے پاس جمع کریں۔ اُنہوں نے یقین دِلایا کہ تقرری کا عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گااور جو اَفراد کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں انہیں مالی معاونت اور مکمل رہنمائی فراہم کی جائے گی۔اُنہوں نے کہا،’’جن معاملات میں ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہیں، ان معاملات میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایات دی جائیں گی۔ اِس کے علاوہ ان متاثرہ کنبوں کی زمین و جائیداد جو دہشت گردوں کے ہمدردوں یا علیحدگی پسند عناصر کے قبضے میں ہے، اسے بھی واگزار کیا جائے گا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مرکزی حکومت اور سیکورٹی اپریٹس متاثرین کی آواز کواُجاگر کرنے اور اِنصاف کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔اُنہوں نے کہا،’’میں جانتا ہوں کہ برسوں سے سچائی کو دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کے دباؤ میں دفن کیا گیا تھا۔ اَب کنبے خود پاکستان اور اس کے کشمیری حامیوں کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اصل مجرم، چاہے وہ جموں و کشمیر میں ہوں یا پاکستان میں چھپے ہوں، انہیں سخت ترین سزا دی جائے گی۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا،’’ہمیں ان چہروں کو بے نقاب کرنا ہوگا جو معاشرے میں نقاب اوڑھ کر پھر رہے ہیں۔ ہمیں معاشرتی خاموشی کو توڑنا ہوگا اور مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے اس امر پر بھی زور دیا،’’جب ہماری قوم روز افزوں ترقی کر رہی ہے، تو ہمارا ہمسایہ ملک جو عالمی سطح پر دہشت گردی کا مرکز مانا جاتا ہے، وہ آج روٹی کو ترس رہا ہے۔ آج پاکستان دنیا کا سب سے بڑا بھکاری بن چکا ہے جبکہ بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے۔ ہمارے نوجوان آج اختراع اور کاروبار ی میدان میں عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا رہے ہیں جبکہ پاکستان اپنے نوجوانوں کو دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں میں بھیج رہا ہے تاکہ عام کشمیریوں کو قتل کر سکے۔ لیکن ہم نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے ذریعے ایک نئی لکیر کھینچ دی ہے اور ہم دشمن کو منہ توڑ جواب دیں گے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور سیکورٹی فورسز دِن رات کام کر رہی ہیں تاکہ ان متاثرہ کنبوں کو وہ پہچان، انصاف اور مدد فراہم کی جا سکے جن کے وہ برسوں سے منتظر تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’میں تمام اُن کنبوں کو یقین دلاتا ہوں جو پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی کا شکار ہوئے کہ ان کے مجرموں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔‘‘زائد اَز80 دہشت گردی کے متاثرہ کنبوںنے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی اور ان دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کو بے نقاب کیا۔ یہ کنبے جو جنوبی کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، اپنے پیاروں کی المناک شہادت کے بعد شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بات چیت کے دوران ان کنبوں نے برسوں سے پھیلائے گئے جھوٹے پروپیگنڈے اور پاکستان کے دہشت گردی کو ہوا دینے کے کردار کو سختی سے رد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جھوٹا اور خطرناک بیانیہ پھیلایا گیا جس میں پاکستانی دہشت گردوں کو مظلوم اور بھارتی سیکورٹی فورسز کو ظالم بنا کر پیش کیا گیا جبکہ اصل مظلوم ۔ یعنی عام کشمیری شہری جو دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے ،کو علیحدگی پسندوں اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کے زیر اثر نظر انداز کیا گیا۔