سونہ مرگ میں سیاحتی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں

سونہ مرگ میں سیاحتی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں

18 برس بعد بھی 7674 کنال اراضی کی باقاعدہ منتقلی التوا کا شکار

سرینگر /وی او آئی//جموں و کشمیر کے عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مقام سونہ مرگ میں ترقیاتی عمل گزشتہ کئی دہائیوں سے سست روی کا شکار ہے۔ اگرچہ حکومت نے سال 2007 میں ایک تاریخی اقدام کے تحت 7674 کنال اور 17 مرلہ ریاستی اراضی سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو منتقل کرنے کا حکم جاری کیا تھا، لیکن 18 برس گزرنے کے بعد بھی اس اراضی کی حد بندی اور باضابطہ منتقلی مکمل نہیں ہو سکی ہے، جس کے باعث علاقہ سیاحتی ترقی میں پیچھے رہ گیا ہے۔25 جولائی 2007 کو ریاستی محکمہ مال کی جانب سے حکم نامہ نمبر Rev(S) 256 of 2007 جاری ہوا تھا جس میں 7674 کنال 17 مرلہ سرکاری اراضی سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو تفویض کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس زمین کا مقصد سونہ مرگ میں سیاحتی انفراسٹرکچر کو فروغ دینا، مقامی معیشت کو تقویت دینا، اور ماحول دوست ترقیاتی منصوبے نافذ کرنا تھا۔تاہم باوثوق ذرائع کے مطابق، نہ صرف اراضی کی باضابطہ حد بندی اب تک نہیں ہوئی بلکہ اتھارٹی کو ابھی تک زمین کا مکمل قبضہ بھی نہیں دیا گیا۔ اس دوران، اتھارٹی نے بعض مقامات پر عمارتیں ضرور تعمیر کی ہیں، لیکن وہ زمینیں بھی قانونی طور پر اتھارٹی کے نام منتقل نہیں کی گئیں۔سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو 2003 میں قائم کیا گیا، مگر 22 سال گزرنے کے باوجود اتھارٹی اپنا مستقل دفتر تعمیر نہیں کر سکی۔ آج بھی سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا دفتر محکمہ لیبر کی عمارت میں عارضی طور پر قائم ہے، جو اتھارٹی کی عملداری، نگرانی اور منصوبہ بندی پر سوالیہ نشان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ اراضی کی شناخت اور حد بندی عمل میں نہیں لائی گئی ہے، اس لیے مقامی افراد، سرمایہ کاروں اور بعض بااثر عناصر نے موقع کا فائدہ اٹھا کر زمینوں پر ناجائز قبضے شروع کر دیے ہیں۔ کئی مقامات پر غیر قانونی تعمیرات ہو چکی ہیں جبکہ اتھارٹی یا مال محکمہ کی جانب سے کوئی موثر نگرانی نظام بھی موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال نے سونہ مرگ جیسے نازک ماحولیاتی خطے کو ماحولیاتی بگاڑ اور بے ترتیبی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔سونہ مرگ، جسے ’’سونے کی چراگاہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، 9000 فٹ کی بلندی پر واقع ایک خوبصورت وادی ہے، جو ہمالیائی گلیشیئروں، بہتے جھرنوں، اور نایاب نباتاتی و حیواناتی حیات کی وجہ سے ماحولیاتی لحاظ سے بے حد حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں دریائے سندھ کا منبع بھی واقع ہے، جو لاکھوں افراد کی زندگی کا ذریعہ ہے۔سونہ مرگ سے منسلک علاقے، جیسے تھاجوس گلیشیئر اور زورہ پتھری، ہر سال لاکھوں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ مگر ان علاقوں میں سیاحتی دباؤ، غیر منظم ترقی، کوڑا کرکٹ کا عدم نظم اور ٹریفک کا بڑھتا بوجھ ماحولیات کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔سونہ مرگ میں کئی ترقیاتی منصوبے، جن میں ایگرو ٹورزم پارک،مہم جوئی سیاحت زون، ویسٹ مینجمنٹ سسٹم، ہائیکنگ ٹریلز، اور انفارمیشن سینٹر شامل ہیں، محض منصوبہ بندی کی سطح پر محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ زمین کی عدم فراہمی نے ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹ بنائی ہوئی ہے۔ سیاحتی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذکورہ زمین اتھارٹی کو وقت پر فراہم کر دی جاتی، تو آج سونہ مرگ گلمرگ یا پہلگام کی طرز پر ایک بین الاقوامی سطح کا سیاحتی مرکز ہوتا۔سونہ مرگ میں گھوڑے والوں، ہوٹل مالکان، شال فروشوں اور دیگر سیاحتی کارکنوں کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ تاہم زمین سے متعلقہ انتظامی غفلت نے ترقیاتی سرمایہ کاری کو روکے رکھا ہے، جس سے نہ صرف سیاحوں کی سہولتیں محدود ہو گئی ہیں بلکہ مقامی افراد کی آمدنی بھی متاثر ہوئی ہے۔ماحولیاتی ماہرین، سیاحتی تجزیہ کار، اور مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ سونہ مرگ کی اراضی کی باضابطہ حد بندی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے، تمام زمینیں سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو قانونی طور پر منتقل کی جائیں، اور ایک بااختیار “سونہ مرگ مینجمنٹ بورڈ” قائم کر کے ترقیاتی منصوبوں کو شفاف اور فوری بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔متعلقین کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ کی یہ اخلاقی، آئینی اور ماحولیاتی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سونہ مرگ جیسے حساس اور اہم سیاحتی مقام کو بے ترتیبی، قبضہ مافیا، اور انتظامی غفلت سے بچائے۔انہوں نے مزید کہا ہے ریاستی ترقی، ماحولیاتی تحفظ، اور مقامی روزگار کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔