سرینگر//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت اور سیاحت کے اسٹیک ہولڈرز کا اجتماعی فرض ہے کہ وہ ملک کی نمایاں سیاحتی مقام کے طور پر جموں و کشمیر کی حیثیت کو بحال کرنے کو یقینی بنائیں ۔ وزیر اعلیٰ سرینگر میں شیر کشمیر انٹر نیشنل کنونشن سینٹر ( ایس کے آئی سی سی ) میں ایف آئی سی سی آئی اور محکمہ سیاحت جموں و کشمیر کے مشترکہ طور پر منظم کردہ’’ جموں اینڈ کشمیر ٹورازم ریوائیول ڈئیلاگ ‘‘سے خطاب کر رہے تھے ۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم پر یہ پابندی عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اقتدار میں یہ یقینی بنائیں کہ جموں و کشمیر ملک میں نمایاں سیاحتی مقام کی حیثیت سے واپس لوٹ آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بنیادی طور پر سیاحوں کے مجموعی تجربے کو بہتر بنانے پر مرکوز نئے اقدامات پر کام کر رہی ہے ۔ حالیہ چیلنجوں کی عکاسی کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد وادی میں سیاحوں کی آمد میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ڈل لیک میں سینکڑوں شکارے دیکھنے میں آتے تھے مگر ایک دم سے ہی یہ شکارے خالی پڑ گئے ۔ انہوں نے اس اتار چڑھاؤ کو تسلیم کیا جس میں جے اینڈ کے میں سیاحت نے کئی دہائیوں کے دوران مشاہدہ کیا ہے اور لچک کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے کہا زیادہ تر دوسری جگہوں کے برعکس جہاں سیاحت کی منصوبہ بندی اگلے سالوں تک کی جا سکتی ہے ، یہاں ہم ہفتے سے ہفتہ تک منصوبہ بندی بناتے ہیں لیکن پھر بھی ہم منصوبہ رکھتے ہیں اور ہم برقرار ہیں ۔ انہوں نے اچھے اور مشکل دونوں اوقات میں جموں و کشمیر کے ساتھ کھڑے ہونے کیلئے ایف آئی سی سی آئی اور سیاحتی برادری کا شکریہ ادا کیا ۔ اس پروگرام میں وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی ، ایم ایل ایز مسٹر فاروق احمد شاہ ، مسٹر سلمان ساگر ، مسٹر الطاف احمد کلو ، مسٹر تنویر صادق ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، سیکرٹری سیاحت ،ایف آئی سی سی آئی کے سابق صدر جیوتسنا سوری ، ہیڈ آف ایف آئی سی سی آئی جے اینڈ کے چیپٹر اور منصوبہ سازوں ، گالفرز اور اسٹیک ہولڈرز کے علاوہ دیگر متعلقہ عہدیداروں نے شرکت کی ۔ وزیر اعلیٰ نے خطے میں سیاحت کے نقوش کو وسیع کرنے کی کوششوں کا خاکہ پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایس پی آر ای اے ڈی نامی ایک پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد کشمیر اور جموں دونوں خطوں میں نئے سیاحتی مقام تیار کرنا ہے جس میں کثیر الجہتی فنٖڈنگ ایجنسیوں کی متوقع حمایت ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر میں سیاحت کے مواقع کے تنوع پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں مذہبی اور سرحدی سیاحت کی پیش کش کرتا ہے اور کشمیر قدرتی ، ثقافتی اور ایڈوینچر سیاحت کی پیش کش کرتا ہے ہم ایک ساتھ مل کر ایک جامع سیاحت کا ماحولیاتی نظام تشکیل دے سکتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے رابطے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ریلوے انفراسٹرکچر کے تبدیلی کے اثرات کو نوٹ کیا اور کہا کہ ٹنلوں اور دُنیا کے سب سے اونچے ریل پُل کے ذریعے وادی میں ٹرین کے ذریعے سفر کرنا بہت ہی دلچسپ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ابھی تک براہ راست دہلی سرینگر لائن نہیں ہے لیکن وہ دن دور نہیں جب دہلی سے سرینگر کیلئے ریل چلے گی ۔ انہوں نے سیاحت کے شعبوں کیلئے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے حکومت کی وابستگی پر بھی زور دیا ۔ وزیر اعلیٰ نے سیاحتی برادری پر زور دیا کہ وہ فعال شراکت دار بنیں ۔ ہم آپ کی حمایت ، تجاویز کی قدر کرتے ہیں اور سیاحتی برادری جموں و کشمیر میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے اپنا اہم کردار ادا کریں ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ایک کتاب ’’ گالفنگ ان پیراڈائیز ‘‘ کا اجراء کیا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی نے بھی خطاب کیا ۔










