وادی میں سیاحتی سرگرمیاں کم ہوتی جارہی ہیں

پہلگام میں سیاحتی اداروں کو 500 کروڑ روپے کانقصان

سرینگر//سیاحتی پہلگام میں تاجروں کو صرف پانچ ماہ کے دوران 500 کروڑ روپے کا نقصان اْٹھانا پڑا ہے کیوں کہ پہلگام میں ان پانچ مہینوں میں 90 فیصدی سیاحوں کی کمی دیکھی گئی جبکہ رواں برس کے جنوری مہینے سے جون تک سیاحوں کی اس قدر تعداد تھی کہ کسی ہوٹل میں کوئی کمرہ خالی نہیں تھا اور پیشگی بکنگ تھی۔ اس بیچ معلوم ہوا ہے کہ پہلگام میں ایک وقت میں 19ہزار سیاح قیام کرسکتے ہیں جبکہ منظور شدہ ہوٹلوں ، گیسٹ ہاوسز اور ہوم سٹے میں 9 ہزار سے زائد کمرے دستیاب ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں میں گزشتہ پانچ ماہ میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے اور سیاحتی مقامات میں غیر مقامی سیاحوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں باہر کی ریاستوں میں کئی ایک جگہوں پر موسمی صورتحال خراب ہوئی اور سیلابی صورتحال کی وجہ سے لوگوں کو پریشانیاں ہوئیں جبکہ دیگر وجوہات بھی ہوسکتے ہیں۔ وی او آئی نمائند امان ملک کے مطابق پہلگام جو وادی کشمیر میں سب سے بڑا سیاحتی مقام مانا جاتا ہے میں اس وقت سیاحوں کی تعداد انتہائی کم ہے اور صرف گزشتہ پانچ مہینوں کے دوران سیاحت سے جڑے اداروں کو قریب 500 کروڑ رپے کاخسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ پہلگام میں ایک وقت میں 19 ہزار سیاح ٹھہر سکتے ہیں جبکہ سیاحتی مقام پر رجسٹریشن 9 ہزار 132 کمرے دستیاب ہیں۔ وہاں اے گریڈ ہوٹل 16، بی گریڈ 21،سی گریڈ 70، ہیںاس کے علاوہ گیسٹ ہاوس ، سٹے ہومز سرکاری سطح پر منظور شدہ 62 ویری ناگ 86اور اہربل میں 15نیو گائیڈ لائن میں 259ہیں۔گزشتہ پانچ ماہ کے دوران 90 فیصدی سیاحتی سرگرمیاں کمی ہوئی ہے۔جس کی وجہ سے تاجروں کو ،500 کروڑ کا نقصان پہنچا۔جنووری سے پہلے چھ ماہ میں سیاحوں کی بھر مار تھی اور ہر کسی ہوٹل میں بْکنگ تھی اور ہوٹلوں میں جگہ نہیں تھی اس کے علاوہ پیشگی بکنگ بھی ہوا کرتی تھی لیکن ان پانچ مہینوں میں سیاحتی سرگرمیاں کافی کم ہوئی ہے۔