گاندربل اور بارہمولہ کے شہری کاروباری اَفراد کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیاگیا
سری نگر//شرکاءکو جدید مہارتوں سے آراستہ کرکے دیر پا زرعی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے مقصد سے ضلع گاندربل کے ہرن اور ضلع بارہمولہ کے سوپور میں’’اَربن ہارویسٹ۔شہر کے باشندوں کے لئے مٹی کے بغیر کاشت کاری میں مہارت‘‘کے عنوان سے اَنٹرپرینیورشپ ٹریننگ پروگرام اِختتام پذیر ہوا۔ اِس تربیتی پروگرام میں شہری کسانوں ، کاروباری اَفراد اور طالب علموں کے متنوع گروپ نے شرکت کی۔اِس پروگرام کا مقصد ایک دیرپا زرعی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینا تھا اور شرکأ کو جدید مٹی کے بغیر کاشت کاری کی تکنیکوں جیسے ہائیدروپونکس اور ایکو پونیکس سے متعارف کیا جس میں شہری ماحول میںدیرپا خوراک کی پیداوار پر توجہ دی گئی ۔ تربیت میں عملی مظاہروں، نظریاتی علم اور کاروباری رہنمائی پر زور دیا گیاتاکہ شرکأ کو شہری زراعت میں اَپنے منصوبے قائم کرنے میں مدد مل سکے۔دیرپا کاشتکاری کے طریقوں کے ماہرین نے غذائی تغذیہ کے اِنتظام، عمودی کاشتکاری کے سیٹ اَپ، مارکیٹ روابط اور شہری زراعت کی اِقتصادی صلاحیت جیسے موضوعات پر سیشن منعقد کئے۔پروگرام کی آرگنائزر ڈاکٹر شہناز مفتی نے مرکزی وزارتِ مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم اَنٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای)کے اِس اَقدام کو نوجوانوں کو بااِختیار بنانے اور شہری زراعت کے ذریعے خود انحصاری کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اِنقلابی قدم قرار دیا۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ مٹی کے بغیر کاشت کاری کی تکنیک محدود زمین اور شہروں میں تازہ پیداوار کی بڑھتی ہوئی طلب کے چیلنجوں سے نمٹ سکتی ہے۔پروگرام کوآرڈی نیٹرنے وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمدگنائی، نوڈل آفیسر ایم ایس ایم اِی پروفیسر ایچ آر نائیک، ڈین ایف او ایچ پروفیسر شبیر حسین وانی اور ایچ او ڈی ویجی ٹیبل سائنس ڈاکٹر آصف بشیر شکاری کی کاوشوں اور تعاون کو سراہا۔پروگرام کوآرڈی نیٹر نے کسان کمیونٹی کے وسیع تر فائدے کے لئے اس طرح کے پروگراموں کو سپانسر کرنے کے لئے سپانسر ایجنسی، مرکزی وزارت مائیکرو ، سمال اینڈ میڈیم اَنٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) ، نئی دہلی کا شکریہ ادا کیا۔










