آبگاہوں کے گردونواح میں بے زبان سیاحوںکی چہچہاہٹ اورسحرانگیز بولیاں

آبگاہوں کے گردونواح میں بے زبان سیاحوںکی چہچہاہٹ اورسحرانگیز بولیاں

مہمان پرندوں کے غیر قانونی شکارکی روکتھام اوراُنھیںمناسب ماحول فراہم کرنے محکمہ متحرک:حکام

سرینگر///سردیوں کے آغاز کیساتھ ہی مختلف علاقوں سے لاکھوںکی تعدادمیں وادی کشمیر کارُخ کرتے ہیں اور پھر یہاں تقریباً5ماہ تک کشمیر کی معتدل آب و ہوا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سائبیریا، چین، فلپائن، مشرقی یورپ اور جاپان سے ہجرت کرنے والے پرندے کشمیر آنا شروع ہو گئے ہیں اور اس وقت یہ پرندے وادی کے گیلے علاقوں یعنی آبگاہوںمیں رقص کرتے اورچہچہاتے نظر آتے ہیں۔کشمیر کے ساتھ اپنے صدیوں پرانے تعلق کو برقرار رکھتے ہوئے یہ مہمان پرندے ہر سال ہزاروں لاکھوں میل کاسفر کرکے کشمیر آتے ہیں اور یہاں کی معتدل آب و ہوا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اکتوبر کے مہینے سے یہ پرندے سائبیریا، چین، فلپائن، مشرقی یورپ اور جاپان سے وادی کی طرف ہجرت کرتے ہیں اور تقریباً 5 ماہ تک یہاں رہتے ہیں۔ان پرندوں میںمارلڈ، کامن، گوس، گارگنٹم، برامنی ڈک، گوڈوال، ٹوفڈ ڈک ، ریڈ کرسٹیڈ، فیروگنس،پوچارڈ کومن، ناردم شولورس، شل ڈک ، ریڈ کریسٹیڈ، وغیرہ شامل ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ہجرت کرنے والے پرندے’ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے میں بہت مدد کرتے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں یہ مہمان پرندے زمین کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں داخل ہونے والے ان آبی پرندوں کا نظم و ضبط دیکھنے والاہوتا ہے۔ جب وہ اڑتے ہیں تو ایک لمبی لائن میں چلتے ہیں اور ان کی حرکت افق پر ایک سیاہ لکیر بناتی ہے۔یوریشیا ریوربلرز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ پرندے عام طور پر شمالی علاقوں کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات یہ ضرورت کے مطابق اپنا فیصلہ بدل لیتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ پرندے لمبے سفر کو آرام دہ بنانے کے لیے جدید ہوابازی میں’’ایوی ایشن‘‘ نامی قدرتی مہارت کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ مہارت ان کی چھٹی حس کی ایک قسم ہے جس میں پرندے انسانوں سے زیادہ ذہین اور ذہین پائے گئے ہیں۔وادی کشمیر کے آبی ذخائر میں ان مختلف اقسام اور رنگ برنگے نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی موجودگی، ان کی چہچہاہٹ اور میٹھی بولیاں ہوا میں ایک الگ ہی مٹھاس پیدا کرتی ہیں۔ ان پرندوں کی آمد کے ساتھ، جنگلی حیات کے شوقین روایتی طور پر کشمیر کی مشہور آبگاہوں بشمول ہوکرسر، وولر جھیل،ہائیگام، شالا بگ اور دیگر آبی ذخائر کا دورہ کرتے ہیں۔گزشتہ برسوں سے ان پرندوں کے غیر قانونی شکار کا بڑھتا ہوا رجحان متعلقہ محکمے کیلئے باعث تشویش ہے تاہم حکام کے مطابق اس پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔متعلقہ حکام کاکہناہے کہ سردیوں میں کشمیر میں داخل ہونے والے ان مہاجر پرندوں کا شکار کافی حد تک روک دیا گیا ہے۔ محکمہ ان پرندوں کی حفاظت کیلئے کمر بستہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان مہمان پرندوں یابے زبان سیاحوں کو پرامن ماحول فراہم کرنے کیلئے محکمہ نے کشمیر کے تمام آبی پناہ گاہوں میں پانی کی مناسب سطح کو برقرار رکھنے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں۔