جموں//پرنسپل سیکرٹری کلچر سریش کمار گپتا نے کے ایل سیگل ہال جموں میں’’جموں کشمیر کا ہندی ساہتیہ۔ کل، آج اور کل‘‘ کے موضوع پر دو روزہ ہندی کانفرنس کا اِفتتاح کیا۔ اِس تقریب کا اہتمام جموںو کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ ، کلچر اور لنگویجزنے کیا ہے ۔ اِفتتاحی تقریب میں سیکرٹری جموںو کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ ، کلچر اور لنگویجزہرویندر کور،ڈاکٹر اگنی شیکھر، پروفیسر راج کمار اور پروفیسر نیلم صراف کے علاوہ دیگرمتعلقین بھی موجود تھے۔پروگرام کا آغاز روایتی چراغ جلانے اور ڈاکٹر چنچل شرما انچارج ایڈیٹر ہندی کلچرل اکیڈیمی کی سرسوتی وندنا کی روحانی پیش کش کے ساتھ ہوا۔ اِس کے بعد ہرویندر کور نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جنہوں نے کانفرنس کے مقصد کا خاکہ پیش کیا اور ثقافتی شناخت کے تحفظ میں ہندی ادب کی اہمیت پر زور دیا۔اس موقعہ پر سریش کمار گپتا نے مقررین کی ان کی بصیرت انگیز شراکت کیلئے تعریف کی ۔ انہوں نے ذاتی داستانوں کابھی اشتراک کیا اوراِس بات پر زور دیا کہ زبان شناخت کا سنگِ بنیاد ہے ۔اُنہوں نے ہندی کی عالمی اپیل کو اُجاگر کرتے ہوئے لوگوں پر زور دیا کہ وہ زبان پر فخر کریں ۔اُنہوں نے اے آئی کے بارے میں خوف کو دور کرتے ہوئے سامعین کو یقین دلایا کہ یہ کبھی بھی انسانی عقل کی جگہ نہیں لے سکتا ۔ اُنہوں نے جموں اور کشمیر کے فن اور ادب کے فروغ اور تحفظ کیلئے آئندہ حکومتی اقدامات کا بھی اعلان کیا ۔ پروفیسر راج کمار نے جموں اور کشمیر کے ہندی ادب کے تاریخی راستے اور مستقبل کے امکانات کو تلاش کرتے ہوئے کلیدی خطبہ دیا ۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر اگنی شیکھر نے جدید ادیبوں میں کم ہوتی ہوئی تخیلاتی صلاحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ادبی کوششوں میں فوج ، بیورو کریٹس جیسے متنوع گروہوں کو شامل کرنے پر زور دیا ۔ چیئر پرسن پروفیسر نیلم صراف نے آرٹیفیشل اِنٹرجنس ( اے آئی ) کے غلبہ والے دور میں کتابیں پڑھنے کی اہمیت پر زور دیا ۔ انہوں نے یونیورسٹی کی سطح پر ہندی کو بطور مضمون منتخب کرنے والے طلباء کی گھٹتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا اور قلم اور نوٹ بُک جیسے روایتی آلات کو محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ۔ یہ کانفرنس ہندی ادب کو فروغ دینے اور فکری اور تخلیقی تبادلے کیلئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کیلئے جے کے اے اے سی ایل کی جاری کوششوں کا ایک حصہ ہے ۔ اس کا مقصد ہندی ادب کے ارتقاء کو اس کے بھر پور ورثے اور امید افزاء مستقبل کا جشن مناتے ہوئے تلاش کرنا ہے ۔ اکادمی ادبی شائقین ، سکالروںاور طلباء کو ہندی زبان اور ادب کے اس پروقار تقریب میں شرکت اور اس میں شامل ہونے کی دعوت دیتی ہے ۔










