dooran

وادی میں سینکڑوں ندی نالے نہریں انتہائی خستہ کسان باغ مالکان پریشان

فلد کنٹرول ارگیشن محکمہ کی لاپرواہی کے باعث سینکڑوں ہیکٹئراراجی بنجر میں تبدیل

سرینگر///فلڈ کنٹرول اری گیشن محکمہ کی جانب سے ندی نالوں نہروں کی مرمت صفائی نہ کرنے کے باعث کسانوں باغ مالکان میں مایوسی کی لہردوڑ گئی ہے اور کئی علاقوں میں غیرقانونی کان کنی نے قابل کاشت اراضی کو بنجر بنانے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑ دی ہے ان علاقوں کی قا بل کاشت اراضی سیراب نہیں ہوسکتی اور کسان پریشانیوں کاسامناکرینگے ان کی سال بھر کی کمائی متعلقہ ادارے کی غفلت کے باعث ضائع ہوگئی ۔ کاشتکاروںنے اب متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس وقت چونکہ سردی کے موسم میں ندی نالوں میں پانی کی سطح کم رہتی ہے اسلئے اس وقت ندی نالوں اور کوہلوں کی صفائی کا کام انجام دیا جائے ۔ وی او آئی کے مطابق وادی کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے مختلف علاقوں کے لوگوں نے شکایت کی کہ ماضی میں فلڈ کنٹرول ارگیشن ڈیپارٹمنٹ فروری مارچ اپریل تین ماہ کے دوران ندی نالوں نہروں آبی پناہ گاہوں کی صفائی مرمت کا کام انجام دیاکرتا تھااور اس کارروائی سے وادی کی سینکڑوں ہیکٹر اراضی سیراب ہوا کرتی تھی۔ سیب کے باغوں میںآسانی کے ساتھ دوا پاشی ہوتی تھی تاہم پچھلے تین برسوں سے فلڈ کنٹرول ارگیشن ڈیپارٹمنٹ ندی نالوں،نہروں، جھیلوں، چشموں کے تئیں غیرسنجیدہ ہوتا جارہاہے جہاں ایک طرف بڑے پیمانے پرغیرقانونی کا ن کنی ہورہی ہے وہی اس طرز عمل نے کسانوں باغ مالکان کوخون کے آنسو رونے پرمجبور کردیا ۔وادی کے ایک درجن کے قریب ایسے بڑے نالے جنہیں وادی کشمیرکی شان سے تعبیر کیاجاتا تھا اب کی بار خستہ حالی کاوہ رونارو رہے ہیں جس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔ ان نالوں کویہ شرف بھی حاصل تھاکہ ان میں ٹراوٹ مچھلیاں پائی جاتی تھی اس کے ساتھ ساتھ لوگ ان کاپانی پینے کے لئے استعمال کرتے تھے کھیت سیراب ہوا کرتے تھے ۔غیرقانونی کان کنی نے ان ندی نالوں کواس قدر خستہ بنادیاکہ ہرسال ان میں ایک درجن سے زیادہ لوگ ڈھوب کرلقمہ اجل ہوا کرتے ہیں ۔شمالی وسطی اور جنوبی کشمیر کے یہ بڑے ندی نالے وادی کشمیرکے ہوگوں کے لئے مسیحا سے کم نہیں تھے تاہم فلڈکنٹرول اریگیشن فشرئز ڈیپارٹمنٹوں کی نااہلی غفلت لاپرواہی نے ان کی حالت بد سے بد تر بنا دی ۔مختلف علاقوں سے کسانوں نے کہاکہ فلڈ کنٹرول ارگیشن ڈیپارٹمنٹ نے رواں برس کے دوران ابھی تک چند ایک ندی نالوں نہروں کی صفائی کاکام کیااور جہاں جن علاقوں میں ا سکی طرف اشد ضرورت تھی وہاں دھیان نہیں دیاغیرقانونی کان کنی نے ندی نالوں کی سطح کو اس قدر متاثر کردیاکہ کھیتوں کوسیراب کرنے کے قابل نہیں رہے۔فلڈ کنٹرول اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کو سینکڑوں بار ندی نالوں، نہروں ،چشموں کی خستہ حالت سے آگاہ کیا تاہم متعلقہ ادارے کا یہ کہناہے کہ رقومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ خدمات انجام دینے سے قاصر ہے۔ جموںو کشمیر انتظامیہ او رمرکزی سرکار کووادی کشمیرکے جھیلوں، ندی، نالوں ،دریاوں کی مرمت ڈرکنگ صفائی کے سلسلے میں کئی منصوبے پیش کئے گئے تاہم ابھی تک معقول رقومات دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے مرمت صفائی کاکام نہیں ہورہاہے او رکئی علاقوں میں کسانوں اور باغ مالکان کومشکلوں کابھی سامناکرنا پڑرہاہے۔ کاشتکاروںنے اب متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس وقت چونکہ سردی کے موسم میں ندی نالوں میں پانی کی سطح کم رہتی ہے اسلئے اس وقت ندی نالوں اور کوہلوں کی صفائی کا کام انجام دیا جائے ۔