وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی ورلڈ کرافٹ کونسل کے مندوبین سے ملاقاتوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی ورلڈ کرافٹ کونسل کے مندوبین سے ملاقات

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی ورلڈ کرافٹ کونسل کے مندوبین سے ملاقات

ثقافتی شناخت کے تحفظ اور اِقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں دستکاری کی اہمیت پر زور ورلڈ کرافٹ کونسل کے مندوبین کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام

نئی دہلی// جموںوکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ورلڈ کرافٹ کونسل (ڈبلیو سی سی) کی 60 ویں سالگرہ کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر ہفتہ کی شام یہاںنئی دہلی میں ورلڈ کرافٹ کونسل کے مندوبین کے لئے عشائیہ کا اہتمام کیا۔یہ تقریب جس میں ممتاز قومی اور بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی اور ورلڈ کرافٹ کونسل کے اِستقبال کی تقریبات کا حصہ تھی۔ ڈبلیو سی سی کی تقریبات دو مرحلوں میں 21 سے 24 ؍نومبر تک جو نئی دہلی میں منعقدہوئی اور 25 سے 27 ؍نومبر کو سری نگر میں منعقد ہوگی طے کی گئی ہیں تاکہ عالمی دستکاری میں جموں و کشمیر کے اہم رول کو اُجاگر کیا جاسکے۔اِس خطے کی سری نگر کو 63 ویں ورلڈ کرافٹ سٹی کے طور پر تسلیم کئے جانے کے بعد ثقافتی اور دستکاری کے مرکز کے طور پر مقام مزید بلند ہو گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ثقافتی شناخت کے تحفظ اور اقتصادی ترقی کوتقویت دینے میں دستکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو اپنے شاندار ثقافتی ورثے پر فخر ہے جس کی جڑیں روایتی دستکاری میں گہری ہیں۔ ہینڈی کرافٹ اور ہینڈلوم شعبے جو اس ورثے کے اہم ستون ہیںبالخصوص دیہی علاقوں میں معاشی ترقی اور سماجی ترقی کے بے پناہ امکانات رکھتے ہیں۔ یہ دستکاریاں نہ صرف علاقے کی ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتی ہیں بلکہ بے شمار کاریگروں کے لئے ذریعہ معاش بھی فراہم کرتی ہیں۔وزیراعلیٰ نے اُمید ظاہر کہ جیسے جیسے ورلڈ کرافٹ کونسل آنے والے برسوں میں تقریب منانے کے لئے مزید سنگ میل حاصل کرے گی ۔ اِسی طرح جموں و کشمیر میں دستکاری شعبہ بھی مضبوط ہوکر اُبھرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ورلڈ کرافٹ کونسل جیسی تنظیمیں آنے والے برسوں میں دستکاری میں جموں و کشمیر کی پوری صلاحیت کو بروئے کار لانے اور اسے دیرپابنانے میں مدد کر سکتی ہیں۔

شرکأ کے سامنے پرزنٹیشن کے دوران جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے کئے گئے متعدد اقدامات پر روشنی ڈالی گئی جن میں وول پروسسنگ، ہینڈلوم اور ہینڈی کرافٹس پالیسی 2020، مالی امداد کے پروگرام، کار خان ہ دارپہل جیسی ہنرمندی کی ترقی کی سکیمیں اور کشمیری دستکاریوں کے تحفظ کے لئے جغرافیائی اشارے (جی آئی) سرٹیفیکیشن کو فروغ دینا شامل ہے۔ یہ بتایا گیا کہ برآمدات میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے جو 2021-22 ء میں 563 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2023-24 ء میں 1,162 کروڑ روپے تک پہنچ گیاہے۔اس تقریب کی ایک اہم بات حکومت جموں و کشمیر اور ورلڈ کرافٹ کونسل کے درمیان سری نگر میں ورلڈ کرافٹ ہب اور اِنٹرنیشنل کرافٹ میوزیم کے قیام کے لئے اِشتراک کا اعلان تھا۔اِس اقدام کا مقصد کشمیر کو روایتی مہارتوں کو برقرار رکھنے اور کاریگروں کے لئے دیرپا آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کے لئے دستکاری کی عمدگی کے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔دورانِ تقریب جموں و کشمیر کی دستکاریوں اور آگے بڑھنے کے راستے پر ایک پرزنٹیشن دی گئی۔ دستکاری کی عالمی وراثت کی تقریب منانے اور سری نگر کو ورلڈ کرافٹ سٹی کے طور پر نامزد کرنے کا تقریب منانے والی ایک مختصر فلم ناظرین وسامعین کو دکھائی گئی۔عشائیہ میں وزیر اعلیٰ اور ورلڈ کرافٹ کونسل کے مندوبین کے علاوہ وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی ، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو ،وزیرا علیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا ، وزارت ٹیکسٹائل میں مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری روہت کنسل ، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وکرم جیت سنگھ ، ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس کشمیر محمود احمد شاہ نے شرکت کی۔اِس تقریب میںورلڈ کرافٹ کونسل کے صدر سعد القدومی، ڈبلیو سی سی کے نائب صدر ڈاکٹر کیون مرے، عزیز متعزائف (ازبکستان)، نادیہ میر (جنوبی افریقہ)، پروفیسر آفتاب گھردا (برطانیہ) اور ورلڈ کرافٹ کونسل کے رکن ممالک کے مندوبین بشمول آسٹریلیا، کویت، فرانس، برطانیہ، ازبکستان، جنوبی افریقہ، آئرلینڈ، ملائیشیا اور ترکی موجود تھے۔ اِس کے علاوہ مرکزی وزارت ٹیکسٹائل اور جموںوکشمیر حکومت کے دیگر اہم اَفسران اور جموں وکشمیر کے کرافٹ اِنڈسٹری کے نمائندوں نے تقریب میں شرکت کی۔یہ تقریبات جموں و کشمیر کے لئے بے حد اہمیت کی حامل ہیں جو اس کے فنی ورثے کو عالمی سطح پر تسلیم کرتی ہیں اور دستکاروں کے لئے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔سری نگر میں ہونے والے اس پروگرام کے دوسرے مرحلے کی ایک قابل ذکر خصوصیت ایران اور وسطی ایشیا کے دستکاروں کی شرکت ہوگی جن کا دورہ وسطی ایشیائی اور کشمیری دستکاریوں کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات کے لئے اہم ثابت ہوگا۔توقع ہے کہ ڈبلیو سی سی کے ساتھ بات چیت سے بین الثقافتی تعلیم کو فروغ ملے گا، مشترکہ ورثے کی تقریب کو بنایا جائے گا اور کھوئی ہوئی تکنیکوں کو بحال کرنے کی راہیں کھلیں گی۔اس بحالی کے مرکز میں اس کے کاریگروں کی موجودگی اور ورلڈ کرافٹ کونسل کے ساتھ اشتراک کی توقع ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے جموں و کشمیر کو اپنے امیر ثقافتی ورثے کو بحال کرنے اور برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ ورلڈ کرافٹ کونسل کے مندوبین سری نگر میں ڈبلیو سی سی کی 60 ویں سالگرہ منانے کے لئے تیار ہیں جس کا آغاز 25 ؍نومبر کو ان کی آمد اور کرافٹ ٹور سے ہوگا اور 26 اور 27 ؍نومبر کو ایس کے آئی سی سی میں دو روزہ پروگرام ہوگا۔