اگر 2014 میں پی ڈی پی بی جے پی کے ساتھ ہاتھ نہ ملاتی تو آرٹیکل 370 کو منسوخ نہ کیا جاتا۔ناصر وانی
سرینگر///نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر ناصر اسلم وانی نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ نہیں کیا جاتا اگر پی ڈی پی نے 2014 میں سابقہ ریاست میں حکومت بنانے کے لیے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ نہ ملایا ہوتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محبوبہ مفتی کی قیادت والی پارٹی نے جموں و کشمیر میں لوگوں کی ترقی میںاپنا حصہ ڈالنے کا سوچاہی نہیں تھا بلکہ اس کواقتدار کی حوس تھی ۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ لوگ کیسے فائدہ اٹھائیں گے اور ترقی کریں گے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے مشیر وانی نے کہاوہ لوگوں کو اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی کو کچھ خود کا جائزہ لینا چاہیے۔اگر وہ (پی ڈی پی) 2014 میں بی جے پی کی حمایت نہ کرتے تو ہم آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو نہ کھوتے۔ ہم نے یہ تمام تباہی بھی نہیں دیکھی ہوگی جو پچھلے 10 سالوں میں ہوئی ہے، وانی نے پی ڈی پی پر ایک سوال کے جواب میں صحافیوں کو بتایا کہ این سی اس ماہ کے شروع میں اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد کے بارے میں سنجیدہ ہے۔ہم وہ کریں گے جس کا وعدہ ہم نے اپنے منشور میں کیا ہے۔ وہ (پی ڈی پی) سیاسی افراتفری میں ملوث ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ افراتفری کی حمایت کی ہے، چاہے وہ 2008 میں ہو یا 2010 میں یا پھر 2016کی بات ہے پی ڈی پی کے دورمیںجموں کشمیر نے افراتفری اور خون خرابہ کادورہ دیکھا۔ ناصر اسلم وانی نے کہا کہ پی ڈی پی نے کبھی بھی لوگوں کی ترقی اور پیشرفت میں حصہ ڈالنے کے بارے میں نہیں سوچا اور اپوزیشن پارٹی کو کچھ خود شناسی کرنے کا مشورہ دیا۔










