مٹن علاقے میں مغل دورکا ’’فوارہ ناگ ‘‘ چشمہ خستہ حالی کا شکار

تواریخی چشمہ کی بحالی اور صفائی کیلئے اقدامات اُٹھانے کا لوگوں کا مطالبہ

سرینگر//مٹن اننت ناگ میں مغل بادشاہوں کے دور حکومت میں بنائے گئے فوارہ ناگ کی حالت خستہ ہوچکی ہے اور چشمے کا پانی اس قدر آلودہ ہوچکا ہے کہ اس سے اُٹھنے والی بدبو لوگوں کیلئے باعث پریشانی بن گئی ہے جبکہ ایک وقت میں اس چشمے کا پانی نہ صرف پینے کیلئے استعمال ہوتا تھا بلکہ دیگر ضروریات کیلئے بھی استعمال ہوا کرتا تھا۔ لوگوںنے حکام سے اپیل کی ہے کہ اس چشمہ کی بحالی اور صفائی کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی ضلع اننت ناگ علاقہ مٹن پلہگام اور اننت ناگ کے درمیان واقع علاقہ ہے جہاں پر سکھ ، مسلمان اور پنڈت ایک ساتھ رہائش پذیر ہے اور سبھی مذاہب کے لوگ اس علاقے میں واقع وارہ ناگ کو استعمال کیا کرتے تھے جس کی حالت اب انتہائی تباہ کن ہے ۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق یہ فوارہ مغل بادشاہوںنے یہاں بنوایا تھا اور ایک سیاحتی سپاٹ بن گیا تھا جہاں پر لوگ آکر لطف اندوز ہوتے تھے جبکہ سکولی بچے اس چشمہ کے نزدیک کھانا وغیرہ کھاتے تھے ۔لوگوں کے مطابق یہ چشمہ آس پاس کی آبادی کیلئے نہ صرف کپڑے ، برتن دھونے کے کام آتا تھا بلکہ اس کا پانی پینے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا تھا ۔ اس بارے میں ایک مقامی شہری فاروق احمد نے بتایا کہ یہ چشمہ اب یہ کافی آلودہ ہوچکا ہے اور اس کے پانی سے اُٹھنے والی بدبو مقامی لوگوںکیلئے پریشانی کا باعث بن جاتا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ اگرسرکار قدرتی چشموں کی بحالی کیلئے اقدامات اُٹھارہی ہے تاہم مٹن کے اس تواریخی چشمہ کی بحالی کی طرف ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے ۔ ادھر مقامی لوگوںنے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور چشمہ کی بحالی اور اس کی صفائی کیلئے اقدامات اُٹھائیں ۔