سکول سے گھر آرہی بچیاں سڑک پر پڑے بارود مواد سے کھلنے لگی

بارودی مواد زور داردھماکہ کے ساتھ پھٹ گیا ، دونوں طالبات زخمی

سرینگر///راجوری میں اُس وقت دو بچیاں زخمی ہوئیں جب وہ سکول کے گھر آرہی تھیں کہ راستے میں پڑے ایک بارودی مواد کو دیکھ کر اس کے ساتھ کھلنے لگی جس دوران وہ پھٹ گیا۔ علاقے میں تلاشی مہم کے دوران متعدد ڈیٹونیٹر بھی ضبط کرنے کا پولیس نے دعویٰ کیا ہے ۔ وائس آف انڈیاکے مطابق جموں ڈویڑن کے راجوری ضلع کے گاؤں ڈنگی برہمنہ کے گاء پنچایت میں اسکول سے واپس آ رہی دو طالبات راستے میں پڑے بارودی مواد کے پھٹنے سے زخمی ہو گئیں۔ دونوں ہاتھ جلنے کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہیں۔زخمیوں کی شناخت تسویر کوثر (10) بیٹی محمد رزاق ساکنہ ڈنگی برہمنہ اور صائمہ کوثر (15) بیٹی محمد مشتاق ساکن ڈنگی برہمن گاء کے بطور ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق دونوں لڑکیاں اسکول سے گھر واپس آرہی تھیں۔ اس نے سڑک پر پڑے بارودی مواد سے کھیلنا شروع کر دیا۔ جس سے ہاتھ میں ہی دھماکہ ہوا۔ دونوں لڑکیوں کے ہاتھوں میں چوٹیں آئی ہیں۔ سول ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے جی ایم سی راجوری ریفر کر دیا۔بتایا جا رہا ہے کہ لڑکیوں کی انگلیوں پر گہرے زخم ہیں۔ پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے. پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ راستے میں کس قسم کا دھماکہ خیز مواد تھا اور یہ کہاں سے آیا۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے بھی علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ ہر کونے کونے کی تلاشی کے ساتھ ساتھ لوگوں سے پوچھ گچھ بھی کی جا رہی ہے۔اس واقعے کے بعد پولیس اور فوج کی راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں نے گاؤں میں مشترکہ محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کی، جس میں دو درجن سے زائد ڈیٹونیٹر برآمد ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ علاقے میں تلاشی مہم ابھی بھی جاری ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ڈیٹونیٹرز کی نوعیت اور ان کے ماخذ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔انھوں نے کہا کہ فوج اور پولیس کے اعلیٰ افسران تحقیقات کی نگرانی کے لیے آپریشن کے مقام پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ڈیٹونیٹر کی برآمدگی کے سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔