صرف فوڈ سیفٹی اینڈسٹنڈاڈزااتھارٹی کی منظوری لازمی ،مسودہ تیار ،اعلان عنقریب
سرینگر/// حکومت نے فوڈ سیفٹی اور معیاری ضوابط میں مختلف ترامیم کی منظوری دی ہے، جس کے تحت فوڈ ریگولیٹرایف ایس ایس اے آئی سے فوڈ پروڈکٹس کے لیے صرف ایک سرٹیفیکیشن کی ضرورت ہوگی۔ فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) اس سلسلے میں ایک مسودہ نوٹیفکیشن جاری کرے گا اور ترامیم کو حتمی شکل دینے سے پہلے اسٹیک ہولڈرز کے تبصرے طلب کرے گا۔ٹی ای این کے مطابق وزارت صحت نے کہا ہے کہ فوڈ سیفٹی اینڈ سٹنڈاڈزاتھارٹی نے اپنی 43ویں میٹنگ میں فوڈ سیفٹی اور معیار کے ضوابط کو ہموار کرنے کے لیے مختلف ترامیم کی منظوری دی۔وزارت نے کہا کہ ترمیم کو حتمی شکل دینے کے بعد کھانے کی مصنوعات کے لیے صرف FSSAI سرٹیفیکیشن لازمی ہوگا۔یہ اقدام ایک قوم، ایک کموڈٹی، ایک ریگولیٹرکے تصور کے ذریعے کاروبار کرنے میں آسانی فراہم کرے گا۔بیان میں کہا گیا ہیکہ بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (BIS) یا کھانے کی مصنوعات کے لیے AGMARK سرٹیفیکیشن کو ختم کرنے کے لیے میٹنگ میں مختلف فوڈ سیفٹی اور اسٹینڈرڈز ریگولیشنز میں مختلف ترامیم کی منظوری دی گئی۔ترامیم کو حتمی شکل دینے کے بعد، کھانے کے کاروبار کو لازمی سرٹیفیکیشن کے لیے مختلف حکام کے پاس نہیں جانا پڑے گا جس کے ساتھ کھانے کی مصنوعات کے لیے صرف FSSAI سرٹیفیکیشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔دیگر منظوریوں میں الکوحل ریڈی ٹو ڈرنک (RTD) مشروبات کے معیارات، دودھ کی چربی والی مصنوعات کے معیارات پر نظر ثانی، حلیم کے معیارات وغیرہ شامل ہیں۔اتھارٹی نے غذائی مصنوعات کی ریگولیٹری تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے تجزیہ کے طریقوں کے ایک جامع دستورالعمل کی بھی منظوری دی۔ مختلف فوڈ سیفٹی اور اسٹینڈرڈز ریگولیشنز میں ترامیم کو حتمی شکل دینے سے قبل اسٹیک ہولڈرز کے تبصروں کو مدعو کرنے کے لیے مسودہ نوٹیفکیشن کے لیے اجلاس میں منظوری دی گئی۔ان ضوابط میں دودھ کی چکنائی والی مصنوعات کے معیارات پر نظر ثانی شامل تھی، جس کے حصے کے طور پر گھی کے لیے فیٹی ایسڈ کی ضروریات دیگر دودھ کی چکنائی والی مصنوعات پر بھی لاگو ہوں گی۔اتھارٹی گوشت کی مصنوعات کے معیارات کے حصے کے طور پر’حلیم‘ کے لیے معیارات بھی مرتب کرے گی۔ حلیم گوشت، دالوں، اناج اور دیگر اجزاء سے بنی ایک ڈش ہے، جس کا فی الحال کوئی مقررہ معیار نہیں ہے۔ اجلاس میں صنعتی انجمنوں، صارفین کی تنظیموں، تحقیقی اداروں اور کسانوں کی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔










