کنیکٹکٹ: سائنس دانوں نے موسمیاتی تغیر کی وجہ سے قطبین پر پگھلتی برف کو دوبارہ جمانے کے لیے دلچسپ منصوبہ پیش کیا ہے۔ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچی پرواز کرنے والے جہازوں کی مدد سے مائیکرو اسکوپک ایروسل ذرّات کو قطبین کے ماحول میں 60 ڈگری ارض البلد سے پھینکے جاسکتاہے۔سائنس دانوں کے مطابق اگر 43 ہزار فِٹ سے ان ایروسلز کو پھینکا جائے تو وہ آہستہ آہستہ سطح کی جانب جائیں گے اور ایک تہہ بنادیں گے۔یہ اضافی تہہ پگھلتے قطبین کو دوبارہ جما دے گی اور پگھلتے گلیشیئر اور سمندروں کی بڑھتی سطح کے مسئلے کو ختم کرے گی۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تکنیک شمسی شعاؤں کو واپس خلاء میں بھیج کر موسمیاتی تغیر کے اثرات کو کم کرے گی۔اسٹریٹوسفیرک ایروسل انجیکشن نامی اس منصوبے پر ہر سال 11 ارب ڈالرز لاگت آئی گی لیکن محققین کے مطابق یہ طریقہ موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے دیگر طریقوں سے کم مہنگا ہوگا۔یہ نیا منصوبہ اِنوائرنمنٹل کمیونیکیشن نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں پیش کیا گیا۔ یہ تحقیق امریکا کی ییل یونیورسٹی کے ویک اسمتھ کی رہنمائی میں کی گئی۔
سخت حفاظتی انتظامات میں وزیراعظم مودی کی چینائی آمد
پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں :کمل ناتھ
بدعنوانی کی پاداش میں 10ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز معطل
بنگال میں بی جے پی مچھلیوں کے حوالے سے اپنی سیاست کو چمکانے کی کررہی ہے کوشش
راجستھان ایس آئی بھرتی:سپریم کورٹ نے بدلااپنا فیصلہ، 700سے زائد امیدواروں کو امتحان میں بیٹھنے کی نہیں ملی اجازت
امریکی میرین فورسز کی مشق میں طیارہ بردار جہاز ’فورڈ‘ بھی شامل
تہران کا کرگ پل تباہ، اسرائیل کو میزائلوں کے ٹکڑوں سے نقصان
جنوبی لبنان میں گوریلا جنگ کی خبریں ؟
فلسطین کی حمایتی یورپی رکن پارلیمنٹ ریما حسن گرفتار
ہم ایران میں پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے










