کنیکٹکٹ: سائنس دانوں نے موسمیاتی تغیر کی وجہ سے قطبین پر پگھلتی برف کو دوبارہ جمانے کے لیے دلچسپ منصوبہ پیش کیا ہے۔ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچی پرواز کرنے والے جہازوں کی مدد سے مائیکرو اسکوپک ایروسل ذرّات کو قطبین کے ماحول میں 60 ڈگری ارض البلد سے پھینکے جاسکتاہے۔سائنس دانوں کے مطابق اگر 43 ہزار فِٹ سے ان ایروسلز کو پھینکا جائے تو وہ آہستہ آہستہ سطح کی جانب جائیں گے اور ایک تہہ بنادیں گے۔یہ اضافی تہہ پگھلتے قطبین کو دوبارہ جما دے گی اور پگھلتے گلیشیئر اور سمندروں کی بڑھتی سطح کے مسئلے کو ختم کرے گی۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تکنیک شمسی شعاؤں کو واپس خلاء میں بھیج کر موسمیاتی تغیر کے اثرات کو کم کرے گی۔اسٹریٹوسفیرک ایروسل انجیکشن نامی اس منصوبے پر ہر سال 11 ارب ڈالرز لاگت آئی گی لیکن محققین کے مطابق یہ طریقہ موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے دیگر طریقوں سے کم مہنگا ہوگا۔یہ نیا منصوبہ اِنوائرنمنٹل کمیونیکیشن نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں پیش کیا گیا۔ یہ تحقیق امریکا کی ییل یونیورسٹی کے ویک اسمتھ کی رہنمائی میں کی گئی۔
ایران کو 3 ارب ڈالرز دینے پر اتفاق، دوحہ مذاکرات میں تہران حکومت کی بڑی کامیابی
سپریم لیڈر کو قتل کی اسرائیلی دھمکی پر ایران کی وارننگ
روس کا کیف پر شدید میزائل اور ڈرون حملہ، 20 افراد ہلاک
امریکی رکن کانگریس رشیدہ طلیب کا اسرائیل کی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ
اسپین کا غیرقانونی تارکین وطن کو قانونی بنانے کا منصوبہ
کرپٹوکرنسی کاروبار سے ٹرمپ کوایک ارب ڈالرس کی کمائی
ایران سے جنگ دوبارہ بھڑکنے اسرائیلی وزیردفاع کا دعویٰ
پاک۔افغان تصا دم سفارتی ذرائع سے حل کرنے روس کا مشورہ
کارنیگی کی عظیم تارکین وطن کی فہرست میں چار ہندوستانی امریکیوں کا نام
ڈالر کی طلب میں اضافہ روپیہ 19پیسے کمزور










