کنیکٹکٹ: سائنس دانوں نے موسمیاتی تغیر کی وجہ سے قطبین پر پگھلتی برف کو دوبارہ جمانے کے لیے دلچسپ منصوبہ پیش کیا ہے۔ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچی پرواز کرنے والے جہازوں کی مدد سے مائیکرو اسکوپک ایروسل ذرّات کو قطبین کے ماحول میں 60 ڈگری ارض البلد سے پھینکے جاسکتاہے۔سائنس دانوں کے مطابق اگر 43 ہزار فِٹ سے ان ایروسلز کو پھینکا جائے تو وہ آہستہ آہستہ سطح کی جانب جائیں گے اور ایک تہہ بنادیں گے۔یہ اضافی تہہ پگھلتے قطبین کو دوبارہ جما دے گی اور پگھلتے گلیشیئر اور سمندروں کی بڑھتی سطح کے مسئلے کو ختم کرے گی۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تکنیک شمسی شعاؤں کو واپس خلاء میں بھیج کر موسمیاتی تغیر کے اثرات کو کم کرے گی۔اسٹریٹوسفیرک ایروسل انجیکشن نامی اس منصوبے پر ہر سال 11 ارب ڈالرز لاگت آئی گی لیکن محققین کے مطابق یہ طریقہ موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے دیگر طریقوں سے کم مہنگا ہوگا۔یہ نیا منصوبہ اِنوائرنمنٹل کمیونیکیشن نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں پیش کیا گیا۔ یہ تحقیق امریکا کی ییل یونیورسٹی کے ویک اسمتھ کی رہنمائی میں کی گئی۔
پاکستانی خفیہ ایجنسی کو حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام
عوام کی خدمت کیلئے ہمارا عزم ہمیشہ مضبوط اور غیر متزلزل
نو راتری کا آغاز : وزیر اعظم مودی اور لیفٹنٹ گورنر کی عوام کو مبارک باد
کابینہ میں توسیع اور ردوبدل سے قبل وزراءکے استعفوں سے متعلق خبریں بے بنیاد
جموں کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کے باعث معمولات زندگی متاثر
ویری ناگ اننت ناگ میں آگ کی ہولناک واردات
ریاسی میں ویشنو دیوی مندر میں نو راتری کا آغاز
جموںوکشمیر میں دو روزہ خصوصی ووٹر اِندراج مہم اِختتام پذیر
سپریم کورٹ کا وزارت داخلہ کے افسران کو توہین عدالت کا نوٹس، میٹرو، انٹرنیٹ اور حراست کے معاملوں پر سخت رخ
’آج کانگریس، انڈیا اتحاد اور ملک کے نوجوان ایک بار پھر بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتریں گے‘، راہل گاندھی کا اعلان










