Illegal occupation of rivers, springs, streams and lakes in the valley, littering

وادی میں دریائوں ،چشموں ،ندی نالوں اور جھیلوں کے کناروں پر لوگوں کا ناجائز قبضہ

سرینگر / /وادی کشمیر جو قدرت کی نعمتوں سے مالا مال ہیں خاص کر خلق خدا کیلئے سب سے اہم پانی سے سرشار ہیں لیکن انسان کی قدرتی نظام میں مداخلت اور اپنی خود غرضی کی وجہ سے پانی جو انسان کو زندگی بخشتا ہے آہستہ آہستہ اب زہر بنتا جارہا ہے۔اس حوالے سے اگرچہ سرکاری و غیر سرکاری طوردعوئے کئے جارہے ہیں کہ وادی کشمیر کے آبی ذخائر کے تحفظ کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر اگر دیکھا جائے تو یہاںکے آبی ذخائر نیست و نابود ہونے کی نوبت تک پہنچ گئے ہیں جس کیلئے سرکار کے ساتھ ساتھ مقامی لوگ بھی ذمہ دار ہیں۔ کشمیر پریس سروس کے تفصیلات کے مطابق دریائے جہلم ، دریائے سندھ ، جھیل ڈل ، جھیل ولر، آنچار جیل ، ہوکر سر ، مانسبل جھیل اور دیگر آبی ذخائر کی حالت دن بدن تباہ ہوتی جارہی ہے ۔ہوکر سرمکمل طور خشک ہوچکا ہے اگر چہ اس حوالے سے مقامی سطح پرسرکار کی توجہ دلانے کی کئی بار کوشش کی تاہم سرکا ر ی افسران اپنے ذاتی مفادات کے خاطر اس طرف توجہ مبذول کرنے کی زحمت گوارانہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ سر خشک ہوا ہے اور افسران کی پشت پناہی سے اس کی زمین آباد ہورہی ہے ۔ وادی کشمیر میں جو آبی ذخائر موجود ہیں وہ دنیا بھر میں مشہور تھے اوران ذرایعے کے پانی کو آب حیات تصور کرتے تھے لیکن بدقسمتی سے اس نعمت عظمیٰ کو ہم محفوظ نہ رہ سکے۔ جھیل ڈل، نگین لیک، جھیل ولر، مانسبل لیک اور آنچار جھیل کی تو ان آبی ذخائر کا حلیہ ہی بگڑ گیا ہے ۔ جھیل ڈل جو ایک زمانے میں سینکڑوںمربع کلومیٹر پر مشتمل تھا جبکہ آج یہ سکڑ کر محض20 مربع کلومیٹر سے کم رہ گیا ہے ۔ جبکہ ایک سو فٹ کی گہرائی سے محض 12فٹ گہرائی رہ گئی ہے ۔جھیل کے ارد گرد علاقوں میں چھوٹے چھوٹے نالے پُر کئے گئے ہیں جن پر آج سبزی اُگائی جارہی ہے ۔ جبکہ آئے دن مکانات و دیگر عمارتیں تعمیر کی جارہی ہے ۔لیکس اینڈ واٹر وائیزڈیولپمنٹ اتھارٹی (LAWDA) اگرچہ ناجائز تجاوازات کو ہٹانے کیلئے انہدامی کارروائی عمل میں لارہا ہے لیکن جس طرح سے غیر قانونی طور لوگوں نے ناجائز تجاوزات کھڑا کئے ہیںمنظم لائحہ عمل کے بغیر بے ہنگم کارروائی سے کوئی موثرفائدہ آج تک نہیں پہنچا ہے ۔جہاں جھیل ڈل اپنا وجود کھورہا ہے وہیں نگین جھیل بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتاجارہا ہے ۔ جھیل کا پانی زمین میں تبدیل کرکے اس کو سبزی ، میوہ باغات میں تبدیل کیا جارہا ہے ۔ آنچار کی حالت اس قدر خراب ہے کہ یہاں پر پانی میں رہنے والے جاندار اب غائب ہوچکے ہیں۔ اسی طرح مانسبل جھیل کے ارد گرد بھی خود غرض عناصر نے غیر قانونی قبضہ جماکر اس جھیل کو ندی میں تبدیل کیا گیا۔ جبکہ جھیل ولر لمبائی، چوڑائی اور گہرائی جو دنیا بھر میں مشہور تھی سکڑ چکا ہے ۔اسطرح کی جھیل دنیا میں کسی اور جگہ پائی نہیں جاتے ہیں لیکن مقامی لوگوں کی خود غرضی اور سرکار کی غفلت شعاری نے ان چھوٹے سمندروں جیسے جھیلوں کو دلدل میں تبدیل کیاہے اوردریائے جہلم ، دریائے سندھ و دیگر دریائوں پر لوگوں کی جانب سے ان سے بھی کوئی اچھا سلوک نہیں کیا گیا ۔ قدرتی آبی ذخائر وادی کشمیر کی شان تھی اور یہ ایک ایسا قدرتی سرمایہ تھا جس کی بدولت کشمیر جنت بے نظیر سے جانا جاتا ہے لیکن اب یہی آبی ذخائر ناپید ہونے جارہے ہیں اس کیلئے صرف ہم کو سرکاری اداروں اور متعلقہ محکموں کو ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہئے بلکہ اس کیلئے ہم سبھی ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم اس اہم اور نازک معاملے کو غیر سنجیدگی سے لیکر ساری ذمہ داری سرکار پر ڈالتے ہیں ۔کے پی ایس نے جب کئی حساس وذی حس افراد سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ آبی ذرایعے واقعی اس سرزمین کیلئے سرمایہ تھے لیکن ان کے حوالے سے لوگوں کی خود غرضی اور سرکار کی عدم توجہی تباہی کے باعث بنے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں جہاں ان آبی ذرایع سے لوگ پانی حاصل کرتے تھے وہیں یہ ان میں روز گار کے بے شمار وسائل موجود تھے لیکن ان پر ناتجاوزات کھڑا کرنے یاان کے پانی کو کوڑا کرکٹ ڈال کر ان کو تباہی پر پہنچایا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان آبی ذخائر کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے زمینی سطح ایسے اقدام اٹھائے جائیں جس سے ان کی شان رفتہ کسی حد تک بحال ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ سرکارکی جانب سے انہدامی یا دیگر کاروائیوں کے تئیں عوام کو تعاون ناگزیر بن جاتا ہے ۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ذاتی حقیر مفادات کو یکطرف چھوڑ قومی مفاد کیلئے سرکاری سطح پر اٹھائے جانے والے اقدام کا بھر پور تعاون کریں ۔