جموں و کشمیر میںNIA کی طرز پر SIA کا قیام،سربراہی ڈائریکٹر کریں گے
سرینگر//جموںو کشمیر میں جنگجوئیت سے متعلق کیسوں کو بہتر انداز اورجلدی نمٹنے کے لئے حکومت نے ایک نئی تحقیقاتی ایجنسی سٹیٹ انوسٹگیشن ایجنسی (ایس آئی اے)کوتشکیل دینے کے احکامات صادر کئے ہیں۔تاکہ ملٹنسی سے متعلق کیسوں کی فوری طور شفاف انداز میں تحقیقات کی جائے ۔سرکارکی جانب سے جاری حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ ملی ٹنسی سے متعلق مقدمے درج کرتے وقت ایس آئی اے کو فوری طور پر اس سلسلے میں مطلع کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ادھر حالیہ ہلاکتوں کے بعدجموںو کشمیر میں سی آر پی ایف کے5بٹالینوں کو تعینات کیا گیا ہے ۔یہ دونوں اقدامات حالیہ شہری ہلاکتوں کے بعد اٹھائے گئے ہیں ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق ملی ٹنسی سے متعلق مقدموں سے موثر انداز سے نمٹنے کے لئے جموں وکشمیر حکومت نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے طرز پر سٹیٹ تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) تشکیل دینے کے احکامات صادر کئے ہیں۔اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے جاری ایک حکمنامے کے مطابق ایس آئی اے ایک نوڈل ایجنسی کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ملی ٹنسی سے متعلق کیسوں میں تیز رفتار اور موثر انداز میں تفتیش و قانونی کارروائی کرنے کے لئے این آئی اے اور دیگر مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ تام میل کرے گی۔حکمنامے میں کہا گیا کہ سٹیٹ تحقیقاتی ایجنسی کے نام کے تحت اس خصوصی ایجنسی کی تشکیل کے لئے منظوری دی گئی ہے۔یہ ایجنسی سی آئی ڈی اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے علاوہ تشکیل دی جائے گی۔حکمنامے میں کہا گیا ہے: ’تمام پولیس اسٹیشنوں کے انچارجز کے لئے لازمی ہے کہ وہ ملی ٹنسی سے متعلق مقدمے درج کرتے وقت ایس آئی اے کو فوری طور پر اس سلسلے میں مطلع کریں اور ان مقدموں کے بارے میں بھی اطلاع دیں جن میں تفتیش کے دوران ملی ٹنسی کے ساتھ رابطہ ہونے کے بارے میں جانکاری سامنے آجائے‘۔میڈیا رپوٹس میں بتایا گیا ہے کہ’ایسے مقدموں، جن کو تحقیقات کے لئے ایس آئی اے کے سپرد نہ کیا گیا ہو، کے بارے میں پولیس ہیڈ کوارٹر کو یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ وہ ان مقدموں کی تحقیقاتی پیش رفت کے متعلق باقاعدگی سے ترجیحی طور پر ہر پندرہ دنوں کے بعد ایس آئی اے کو مطلع کرتا رہے‘۔حکمنامے کے مطابق ایس آئی اے ان مقدموں کی بھی تحقیقات کرے گی جن کو این آئی اے ایکٹ 2008کے سیکشن 7 کے مطابق سٹیٹ گورنمنٹ کو سپرد کیا گیا ہو۔حکمنامے میں کہا گیا کہ سی آئی ڈی کا سربراہ ایس آئی اے کا ڈائریکٹر ہوگا اور وہ حکومت کی طرف سے وقفے وقفے سے تفویض کردہ اختیارات کو استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ ایس آئی اے میں تعینات ملازموں کے بنیادی تنخواہ میں 25فیصدی اضافہ کیا جائے گا۔ادھر وادی کشمیر میں حالیہ شہری ہلاکتوں کے بعد کزی حکومت نے جموں و کشمیر میں پیرا ملٹری فورسز کی 50 اضافی کمپنیوں کی تعیناتی کے احکامات صادر کئے ہیں۔انگریزی روز نامہ ’دی ٹیلی گراف‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت نے وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر جموں وکشمیر میں پیرا ملٹر فورسز کی 50اضافی کمپنیاں تعینات کرنے کا فیصلہ لیا ہے‘۔رپورٹ میں مرکزی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا: ’وادی کشمیر میں حالیہ شہری ہلاکتوں کے تناظر میں سیکورٹی صورتحال انتہائی چلینجنگ ہے۔ جموں وکشمیر پولیس کو امن و قانون کی بحالی کو یقینی بنانے اور انسداد دہشت گردی آپریشنز میں مدد کرنے کرنے کے لئے یونین ٹریٹری میں پیرا ملٹری فورسز کی 50 اضافی کمپنیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے‘۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ان پچاس کمپنیوں میں سے تیس کمپنیاں صرف سری نگر میں تعینات کی جائیں گی۔بتادیں کہ وادی میں ماہ اکتوبر کے دوران نامعلوم جنگجوؤں کے ہاتھوں قریب ایک درجن شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ مہلوکین میں سات غیر مسلم اور پانچ غیر مقامی مزدور شامل تھے۔










