کام میں کوئی سمجھوتہ نہیں ،ماہانہ تنخواہیں گراں بازاری کے دور میں نہ ہونے کے برابر
سرینگر / /جموںوکشمیر بنک میں گذشتہ کئی برسوں سے تعینات اے ٹی ایم گارڈ پریشانیوں میں مبتلا ہے ۔ اس سلسلے میں گذشتہ روز اے ٹی ایم گارڈز نے پریس کالونی سرینگر میں احتجاج کیا اور کئی برسوں سے سراپا احتجاج ہیںکیونکہ موجودہ گراں بازاری میں ان کی ماہانہ تنخواہیں نہ ہونے کے برابرہے ۔ایک طرف اے ٹی ایم گارڈز سے 24گھنٹے کام لینے والی کمپنیاں ان سے بے گاری لیتے ہیں اور دوسری طرف ان کے مراعات اور موجودہ تقاضوں کو پورا کرنے میں متعلقہ کمپنیاں توجہ مرکوز نہیں کرتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں اے ٹی ایم گارڈز کی زندگی ان کیلئے عذاب بن گئی ہے ۔کیونکہ جو لوگ روزانہ بنیادوں پر ایک ہزار سے زیادہ کماتے ہیں وہ بھی شام کو اپنے اہل وعیال کو مشکل سے بھی روٹی فراہم کرسکتے ہیں جب وہ یومیہ کمائی کو بازار میں لیکر جاتے ہیں تواس کا روزانہ خرچہ بھی پورا نہیں ہوسکتا ہے ۔اشیائے خوردنی ،سبزیاں ،میوہ جات اور دیگر ضروریات زندگی کی چیزوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے ۔گذشتہ دو سال سے ہر قسم کی خوردنوش کی چیزوں میں 40فیصدی سے زیادہ قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور مزدور طبقہ بڑی مشکل سے زندگی بسر کرتا ہے اور کھانے پینے کے علاوہ زندگی میں نہ کچھ سوچ سکتا ہے اور نہ کچھ کرسکتا ہے ۔اس وقت مزدور یومیہ طور 6سے7سو روپیہ دن کے کھانا سمیت لیتا ہے لیکن بنک میں دہائیوں سے کام کرنے والے اے ٹی ایم گارڈ مزدور کی یومیہ مزدوری بھی حاصل نہیں کرسکتا ہے اور سرکار کیلئے یہ ایک سوالیہ نشان بناہوا ہے کہ بنک شاخوں پر تعینات اے ٹی ایم گارڈ سات ہزار روپے پر کس طرح اپنا گھر چلاسکیں گے ؟اور بیشتر اے ٹی ایم گارڈ ز کی آمدنی کا واحد ذریعہ کم قلیل تنخواہیں ہیں ۔لیکن اس تنخواہ سے ان کا گذارا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بن گیا ہے ۔اس ضمن میں احتجاج میں شامل جموں وکشمیر بنک شاخوں پر تعینات اے ٹی ایم گارڈز نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پریشان حال ہیں کیونکہ 24گھنٹے فرائض انجام دینے کے بعد بھی ان کو معقول تنخواہیں فراہم نہیں کی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کی ماہانہ تنخواہیں اس وقت 7730روپے ہیں جو موجودہ مہنگائی کے دور میں ان کے ساتھ بھونڈا مزاق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آجکل ایک مزدور کھانا پینا سمیت 600سے700روپے یومیہ مزدوری حاصل کرتا ہے اور وہ بھی گراں بازاری کی وجہ سے ڈھنگ سے اپنے اہل وعیال کو دو وقت کی روٹی فراہم نہیں کرسکتا ہے جبکہ ان کی تنخواہیں یومیہ مزدوری کے نصف سے بھی کم ہے اور وہ یومیہ 250روپے ہی لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بنک حکام مختلف کمپنیوں کو اے ٹی ایم گارڈ کی بھرتی عمل میں لانے کی ذمہ اریاں تفویض کرتے ہیں ۔لیکن ان کمپنیوں کے پاس اے ٹی ایم گارڈز کیلئے کوئی مثبت پالیسی مرتب نہیں ہے بلکہ وہ اپنی فکر میں پڑے ہوئے ہیں کہ کس طرح سے کمپنیوں کے مالکان کو فائدہ پہنچا یا جاسکے سکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بے روزگاری سے نجات حاصل کرنے کیلئے امیدوار وں نے اس نوکری کو تسلیم کیا ہے لیکن یہ نوکری ناانصافی پر مبنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ 24گھنٹے جان خطرے میں ڈال کر کام کرتے ہیں لیکن معاوضہ اس محنت کے برعکس اورناکافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 7ہزار روپے ماہانہ تنخواہوں سے نہ ہی وہ اہل وعیال کو دو وقت کی روٹی فراہم کرسکتے ہیں اور نہ ہی بچوں کی فیس ادائیگی کو یقینی بناسکتے ہیں کیونکہ محدود آمدنی سے یہ ممکن ہی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کی مہاماری کے دوران انہوں نے اپنی جان کو جوکھم میں ڈال کر ڈیوٹی یقینی بنائی اور صارفین کیلئے فوجیوں کی طرح اے ٹی ایمز یا بنکوں میں کھڑا رہے اور صارفین کو پریشانیوں میں مبتلا ہونے کا موقعہ فراہم نہیں کیا لیکن ان کی اس محنت اور ذمہ داری پر انتظامی سطح پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔اس دوران ایک اے ٹی ایم گارڈ نے بتایا کہ وہ سال2013میں بحیثیت اے ٹی ایم گارڈ تعینات ہوا ہے اور تب سے اب تک قلیل تنخواہ پر کام کررہا ہے اور اس کو گوناگوں مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ اب اپنے اہل وعیال کی پریشانیوں اور بچوں کی آہ وزاری سے ان سے دور رہنا ہی پسند کرتا ہے کیونکہ تنخواہ پر وہ گذارا نہیں چلاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بنک انتظامیہ نے( جی ایکٹیو)کمپنی کو ذمہ داری سونپ دی ہے لیکن ان کے پاس اے ٹی ایم گارڈز کے تئیں کوئی خاصی پالیسی نہیں ہے اور مذکورہ کمپنی کے ساتھ وابستہ افراد ان کا کوئی بلا نہیں چاہتے ہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے بنک چیرمین آر کے چھبر اورزونل ہیڈ برائے کشمیر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ گراں بازار ی کو مد نظر رکھتے ہوئے اے ٹی ایم گارڈز کی ماہانہ تنخواہیں بڑھائی جائے اور کم ازکم مزدور وں کی یومیہ مزدوری کے تحت 18ہزار سے 21ہزار تک پہنچائی جائیں تاکہ اے ٹی ایم گارڈز بھی اپنے اہل وعیال کو دووقت کی روٹی بہ آسانی فراہم کرسکیں گے اور بچوں کی تعلیم میں ان کیلئے معاون ثابت ہوکر ان کے مستقبل میں رول ادا کرسکیں گے ۔










