سرینگر//جموںکے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان جاری مسلح تصادم 21ویں روز میں داخل ہوا ہے جس دوران علاقے میں ممکنہ طور چھپے جنگجوئوں کو تلاش کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہیں ۔اس دوران جموں راجوری قومی شاہراہ 2 ہفتوں کے بعد دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق حکام نے اتوار کی صبح جموںراجوری قومی شاہراہ کے ایک حصے کو ٹریفک کے لیے اتوار کے روزدوبارہ کھول دیا، جو کہ ملحقہ گھنے جنگلاتی پٹی میں جاری جنگجومکالف آپریشن کے پیش نظر دو ہفتے سے زیادہ وقت تک بند کیا گیا تھا۔حکام نے بتایا کہ چھپے ہوئے جنگجوئوں کے ایک گروپ کا سراغ لگانے کے لیے، جو نو فوجیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں، مینڈھر کے بھٹی دوریاں جنگل کے ساتھ پونچھ کے سورنکوٹ جنگل اور راجوری ضلع کے قریبی تھانہ منڈی میں اتوار کو 21ویں دن میں داخل ہو گئے جبکہ آپریشن جاری ہے، حکام نے مینڈھر میں بھمبر گلی اور جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں سورنکوٹ میں جیرا والی گلی کے درمیان مرکزی شاہراہ پر ٹریفک کی اجازت دی، جس کی وجہ سے مقامی آبادی جن میں، خاص طور پر ٹیکسی آپریٹرز کو راحت ملی جو اسے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔سڑک کی پٹی، جو کہ گھیرا بند جنگلاتی پٹی سے گزرتی ہے، احتیاطی تدابیر کے طور پر 15 اکتوبر کو بند کر دی گئی تھی، جس کے ایک دن بعد بھاٹی دوریاں جنگل میں چھپے دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک جے سی او سمیت چار فوجی اہلکارمارے گئے تھے 11 اکتوبر کو ایک جے سی او سمیت پانچ فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سورنکوٹ کے جنگل میں آپریشن شروع کیا اور بعد میں فرار ہونے والے جنگجوئوں کو تلاش کرنت کے لیے اسے مینڈھر تک بڑھا دیا گیا۔حکام نے بتایا کہ چھپے ہوئے جنگجوئوںکے ساتھ رابطہ صرف دو بار 11 اکتوبر کو سورنکوٹ اور تھانہ منڈی میں اور پھر 14 اکتوبر کو بھٹی دوریاں میں قائم ہوا۔ایک اہلکار نے بتایا کہ سرچ پارٹیاں غاروں کو صاف کر رہی ہیں اور مشتبہ جنگجوئوںکو بے اثر کرنے کے لیے احتیاط سے آگے بڑھ رہی ہیں۔حکام نے بتایا کہ دو خواتین سمیت ایک درجن سے زائد افراد کو اب تک پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ وہ مبینہ طور پر جنگجوئوںکو خوراک اور پناہ گاہ سمیت لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتے تھے۔جموں خطہ کے راجوری اور پونچھ میں اس سال جون سے دراندازی کی کوششوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں الگ الگ انکاؤنٹر میں نو دہشت گرد مارے گئے ہیں۔










