وادی میں 4روز بعدکھلی دھوپ نکلی،سرینگر لہہ شاہراہ ٹریفک کے لئے بحال

وادی میں 4روز بعدکھلی دھوپ نکلی،سرینگر لہہ شاہراہ ٹریفک کے لئے بحال

سرینگر //وادی کشمیر میں گزشتہ دنوں کی بارشوں اور برف باری کے بعد صبح شام اور رات کے اوقات میں شدید سردی کا قہر موسم سرما سے قبل شروع ہوا ہے اس دوران سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میں گزشتہ رات سرد ترین رات ثابت ہوئی ہے۔بدھ کے روز وادی میں موسم میں بہتری کے ساتھ ہی کھلی دھوپ نکلنے کے ساتھ لوگوں نے راحت کی سانس لی جبکہ انتظامیہ نے لداخ سرینگر سڑک وکو آمد رفت کے لئے بحال کر دیا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق حالیہ برف باری اور بارشوں کے بعد وادی کشمیر میں سردی کی شدت میں بتدریج اضافہ درج ہو رہا ہے جس نے لوگوں کو گونا گوں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔اس دوران وادی کشمیر میں صبح اور شام کے اوقات میں موسم سرما سے قبل ہی چلہ کلان کی سردی کا احساس ہو رہا ہے۔ مشہور زمانہ سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام وادی کشمیر کے سرد ترین مقامات رہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی 1.4ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔گلمرگ میں دوران شب 0.4 ملی میٹر بارش بھی ریکارڈ کی گئی۔ادھر بدھ کے روز کشمیر وادی میں صبح سے ہی کھلی دھوپ چار روز بعد نل آئی ہے جس کے نتیجے میں یہاں لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے ۔ دریں اثنا وادی میں بدھ کے روز موسم خشک رہا اور ہلکی دھوپ بھی چھائی رہی جس سے لوگوں کو پارکوں اور دکان کے تھڑوں پر لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔اس دوران چار روز بعد سرینگر لیہہ شاہراہ کو گاڑیوں کے کی آمد رفت کیلئے بحال کر دیا گیا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ برف باری اور بارشوں کے بعد موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی سرما جیسی سردی شروع ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماہ اکتوبر میں ہی گرم لباس اور گرمی کے آلات کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ان کا الزام تھا کہ بھاری برف باری سے قبل ہی بجلی کی آنکھ مچولی بھی شروع ہوگئی ہے جس سے مشکلات مزید بڑھ گئے ہیں۔ادھر محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کی پیش گوئی کے مطابق وادی میں 2 نومبر تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔واضح رہے محکمہ موسمیات کی حالیہ بھر وقت پیش گوئی کے دوران یہاں پوری وادی میں بڑے پیمانے پر بارشوں کے ساتھ ساتھ پہاڑی علاقوں میں برف باری ہوئی ہے جس کے نتیجے میں جہاں سردیوں میں قبل از وقت اضافہ ہوا ہے وہی دوسری جانب پوری وادی میں سیب کے باغات اور خاص کرفصلوں کی ایک بڑی تعداد کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔