school kashmir

گورنر انتظامیہ جموں و کشمیر میں پرائمری اور مڈل سکولوں کو دوبارہ کھولنے کیلئےاقدامات اٹھائے:والدین

سرینگر// والدین نے گورنر انتظامیہ پر جموں و کشمیر میں پرائمری اور مڈل کلاسوں کے لئے اسکول دوبارہ کھولنے کیلئے مناسب اور موثر اقدامات اٹھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ زندگی کا ہر ایک شعبہ معمول کے مطابق کام کررہا ہے لہذا اسکولوں کو اب کھولنا ناگزیر بن گیا ہے ۔ والدین نے کشمیر نیوز سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گونر انتظامیہ کو پرائمری اور مڈل کلاسوں کے لئے اسکول دوبارہ کھولنے کا طریقہ کار وضع کرنا چاہیے کیونکہ ان کے بچوں کا مستقبل دا پر لگا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ 18 ماہ کے وقفے کے بعد حکومت نے حال ہی میں کوویڈ 19 رہنما اصولوں کے ساتھ 10 ویں اور 12 ویں جماعت کلاسوں کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی ہے تاہم پرائمری اور مڈل اسکول ابھی بھی بند رکھے گئے ہیں۔والدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو کویڈ-19 رہنما خطوط کے بارے میں حساس بنائیں گیلیکن حکومت کو کچھ طریقہ کار وضع کرنا ہوگا تاکہ ان کلاسوں کے لئے اسکول دوبارہ کھولے جاسکے گے ۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وبائی مرض انتہائی خطرناک ہے لیکن انتظامیہ کویڈ-19 کیسوں کو صفر کی سطح تک جانے کا انتظار نہیں کر سکتی اور عرصہ دراز سے بند پڑے اسکولوں کو زیادہ عرصے تک مفلوج نہیں رکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے اور اس عمل سے ہمارے آنے والے نسل کی تعلیم تشویشناک حد تک متاثر ہوسکتی ہے ۔والدین نے کے این ایس کو مزید بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ تقریبا گزشتہ دو سال سے وادی کے بچے آف لائن کلاسوں میں نہیں گئے ہیں جبکہ کئی کئی گھنٹوں تک کلاسوں میں شرکت اور آن لائن طریقوں سے امتحانات کی تیاری نے بہت سے بچوں کی بینائی کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں نے حال ہی میں پرائمری اسکولوں کو دوبارہ کھول دیا ہے اور انہوں نے کویڈ-19 رہنما خطوط کے لئے مناسب اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچے جو ہمارے معاشرے کا مستقبل ہیں انہیں اسکول جانے اور سیکھنے کا پورا حق حاصل ہے جو ان کی مجموعی ترقی، حفاظت اور تندرستی کے لئے بہت ضروری ہے۔والدین نے اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ پرائمری اور مڈل اسکولوں کو بھی دوبارہ کھولنے کے لئے مناسب طریقہ کار وضع کرے تاکہ بچوں کا مستقبل مخدوش نہ بن جائیں۔۔