مقررین نے علمدارِ کشمیر ، لعل دید کی خدمات پر روشنی ڈالی
سری نگر// کشمیر کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین کے آئیکونک وِیک فیسٹول کے موقعہ پر ’آزادی کا امرت مہااُتسو‘ کے تحت وادی کے دو مشہور روحانی شخصیات شیخ نور الدین ولی ؒ اور لعل دید کو یاد کرنیکے لئے ایک روزہ پروگرام کا اِنعقاد کیا گیا۔ اِس کے علاوہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، محبت اور بقائے باہمی ، ہمدردی کے لئے ان کی شراکت کو اُجاگر کیا۔پروگرام کے آغاز میں کالج کے طلباء نے اِستقبالیہ گیت حمد باری تعالیٰ اور قوامی پیش کی جس سے پروفیسر صاحبان ، سکالر، ماہرین تعلیم ، طلباء ، ادباء ، شعراء ، صوفیاء اور دیگر سامعین محظوظ ہوئے۔کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر نسیم اَمان نے مہمانوں اور سامعین کا اِستقبال کرتے ہوئے شیخ العالم ؒ اور لعل دید کی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم تعلیمات ، دو روحانی شبیہیں کی شراکت اور صدیوں سے کشمیری ثقافت پر ان کے اثر و رسوخ پر ایک پروگرام کا انعقاد کر نے میں فخر محسوس کر تے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ یہ ان دو روشن دانوں کی زندگی کے پہلوئوں پر روشنی ڈالنے کا ایک بہترین موقعہ ہے۔اِس موقعہ پر کلسٹر یونیورسٹی سری نگر کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر قیوم حسین مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجودتھے۔ اُنہوں نے لعل دید اور شیخ العالم ؒ کے لئے اَپنے احترام کا اِظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر چہ علمدار کشمیر اور لعل دید کا تعلق کشمیر سے ہے لیکن ان کا پیگام عالمگیر ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمیٹن اِپنی ثقافت ، ادب کو فروغ دینے اور اَپنی بھرپور ثقافت پر فخر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں مغربی ادباء اور شعراء کا حوالہ دینے کے بجائے اَپنے آئیکنز کے محاورات ، اقتباسات اور دانشمندانہ اقوال استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔دریں اثنا ، اُنہوں نے کہا کہ تعلیم کے ذریعے کشمیر ی نوجوانوں کو بااِختیار بنانے اور ترقی کے لئے کلسٹریونیورسٹی روزگار اور پیشہ ورانہ کورسز متعارف کرے گی جو جدید دور کا تقاضا ہے۔سابق چیئرمین شیخ العلام چیئر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر بشر بشیر نے دو روحانی شخصیات ،وکھ ، اور شروک کے فلسہ ، روحانی روشن خیالی کے لئے مخفی اور خفیہ پیغامات ، ان کے عصری دور کی عکاسی ، سماجی میل جول ، رسومات اور سماجی طبقات کی ادبی شراکت پر روشنی ڈالی۔اِس موقعہ پر ممتاز علماء ، ادیبوں ، شاعروں اور ماہرین تعلیم نے حاضرین کو لالہ عارفہ اور شیخ العالم ؒ کی شخصیات کے مختلف جہتوں سے روشنا س کیا۔تکنیکی سیشن اوّل میں پیپر پیش کرنے والوں نے’ ’ لالہ دید کے زیر استعمال زبان اور ڈکشن‘‘ ، لالہ دید کا آئیڈیا برائے سماجی اِنصاف اور خواتین کی آزادی ‘‘،’’لالہ عارفہ کی شاعری میں جمالیات ‘‘ اور ’’ لالہ عارفہ شاعری میں اِنسانیت کا آئیڈیا ‘‘ جیسے موضوعات پر بحث کی ۔ اِس سیشن کی صدارت معروف ادیب اور براڈ کاسٹر محمدامین بٹ نے کی۔تکنیکی سیشن دوم میں پیپر پیش کرنے والوں نے ’’ شیخ العالم : امن کا پیامبر‘‘، موجودہ دور میں شیخ العالم ؒ کی تعلیمات کی مطابقت ‘‘ ،’’ شیخ العالم اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی ‘‘ ، شیخ العالم ؒ کے خطبات ‘‘ کے موضوعات پر غور وخوض ہوا۔اِس نشست کی صدارت سابق ڈائریکٹر جنرل ریڈیو کشمیر بشیر عارف نے کی۔ایک اور سیشن میں سابق سربراہ شعبہ کشمیری کشمیر یونیورسٹی پروفیسر شاد رمجان نے اِفتتاحی خطا ب کیا جبکہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ پروفیسر نسیم شفائی سیشن کے کلیدی مقرر تھے ۔ڈائریکٹر کالجز جے اینڈ کے پروفیسر ( ڈاکٹر ) یاسمین عشائی نے خصوصی خطاب پیش کیا۔اِس سے قبل پروگرام کا آغاز کالج کے شعبہ موسیقی کے طلباء نے رنگارنگ ثقافتی پرفارمنس سے ہوا۔ پروگرام کا اِختتام صوفی مشاعرہ سے ہوا۔










