2003اور2009سے بھی زیادہ کٹھن آپریشن،گھنے جنگل پرہیلی کاپٹروں اورڈرونز سے نگرانی
سری نگر//فوج کی جانب سے جموں و کشمیر کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے بھاری اسلحہ سے لیس جنگجوئوںکیخلاف بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن 11ویں دن میں داخل ہو گیا جس میں گزشتہ ہفتے 2، الگ الگ حملوں میں 2جونیئرکمیشنڈافسروں سمیت فوج کے9، اہلکار ہلاک ہوئے۔ جے کے این ایس کے مطابق جڑواں سرحدی اضلاع راجوری اورپونچھ کے جنگلاتی علاقوں میں آپریشن 11، اکتوبر کو شروع ہوا جب جنگجوئوں نے پونچھ کے سرنکوٹ جنگل میں ایک تلاشی پارٹی پر حملہ کیا جس میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر (جے سی او) سمیت5 فوجی ہلاک ہوئے اور اسی دن قریبی تھنہ مندی میں تصادم ہوا ،جسکے بعد جنگجودونوں جگہوں سے فرار ہو گئے۔ 14، اکتوبر کو ، جنگجوئوں نے مینڈھر کے نار خاص جنگل میں ہوئی ایک جھڑ کے دوران ایک جے سی او سمیت 4 فوجی ازجان ہوئے ۔ان2ہلاکت خیز حملوں کے بعد سیکورٹی فورسز نے گھنے جنگل میں چھپے جنگجوئوں کوہلاک کیلئے وسیع علاقے تک محاصرہ اور تلاشی آپریشن بڑھایا۔لیکن اب یہ جنگجومخالف آپریشن 11ویں دن میں داخل ہوا،اوجمعہ کی صبح سیکورٹی فورسزاورجنگجوئوںکے درمیان فائرنگ کے تبادلے اورکچھ دھماکوںکی اطلاع ہے ۔سیکورٹی ذرائع کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جموں و کشمیر کے علاقوں میں طویل عرصے تک انسداد دہشت گردی آپریشن کیا گیا ہو۔ اس قسم کا آخری آپریشن2003 میں کیا گیا تھا۔ذرائع کاکہناہے کہ پونچھ ضلع کے سرنکوٹ کا ہل کاکا علاقہ سال2000 کے اوائل میں پاکستانی جنگجئووں سے بھر گیا تھا۔لشکر طیبہ ، جیش محمد ، البدر ، اور کچھ دیگر دہشت گرد گروہ پونچھ میں داخل ہوئے تھے۔سرحدپار سے دراندازی کرنے کے بعد بہت سے جنگجوسرنکوٹ تحصیل کے بیکروال گاؤں ہل کاکا میں چھپ گئے تھے ،یہ علاقہ ایل او سی سے تقریباًدس سے بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ سیکورٹی ذرائع کہتے ہیں کہ ان دہشت گردوں نے گاؤں کو اپنا قلعہ بنا دیا تھا اور سینکڑوں مویشیوں کے شیڈ ، جو بکروال اپنے جانوروں کیلئے استعمال کرتے تھے ، کو کنکریٹ اور پتھروں سے بننے والے بنکروں میں تبدیل کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے لئے ایک ہسپتال بھی بنایا تھااور اس طرح کے بنکروں میں راشن ذخیرہ کیا تاکہ تقریبا ً دو ماہ تک500 افراد کو کھانا کھلایا جاسکے۔فوج نے اپریل اور مئی 2003 کے درمیان آپریشن سرپ ونش (سانپ ڈسٹرائر) کیا۔بھارتی فوج کے مطابق ہل کاکاسرنکوٹ میں62 دہشت گرد مارے گئے اور سیکورٹی فورسز نے 47اے کے رائفلیں ، پی آئی کے اے بندوقیں ، سنائپر رائفلیں ، دستی بم لانچر ، سیلف لوڈنگ رائفلیں ، دھماکہ خیز مواد ، اور بڑی تعداد میں ریڈیو سیٹ اور دیگر مواصلاتی آلات ، یہاں سے ضبط کئے۔اس آپریشن کے دوران2 فوجی جوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اسے پہلے سیکورٹی فورسز نے 2009 میں اسی علاقے میں سرچ آپریشن کیا تھا۔ پونچھ جو کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب واقع ہے ، نے2009 میں یکم سے 9 جنوری تک دہشت گردوں کے خلاف9روزہ آپریشن دیکھا تھا،جس دوران ایک جے سی ائواور4فوجی جوان مارے گئے تھے۔ جبکہ4 دہشت گردوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ تاہم انکاؤنٹر سائٹ سے ان کی لاشیں برآمد نہیں ہوئیں۔9 دن کے بعد آپریشن بند کر دیا گیا۔










