جمہوری نظام افسر شاہی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا: آزاد

سرینگر // کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا ہے کہ جمہوریت میں بیوروکریٹ سرکاری کام کرنے کیلئے ہوتے ہیں نہ کہ جمہوری نظام چلانے کے لئے۔ انہوں نے کہا کہ جلدی ریاستی درجہ بحال کرکے فوری طور پر انتخابات منعقد کیے جایں۔ کے این ایس کے مطابق سرینگر میں اپنی رہاشگاہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ کوی بھی ذاتی طور ایل جی کے خلاف نہیں ہے ،ریاستی درجہ بحال کیا جائے اور وہ گورنر بنے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں افسران کی حکمرانی نہیں ہوتی، راج بھون میں گورنر اچھی نیت کے ساتھ ہو لیکن آ خر کار عوام کیلیے ایک معروف حکومت کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگوں کی امنگوں اور مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں ترقیاتی کام کی جو ضرورت ہے انہیں عوام کے منتخب نمائندے بہتر ین طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔ آ زاد نے مزید کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کو منتخب نمائندے ہی بہتر طور پر حل کر سکتے ہیں نہ کہ افسران اور بیوروکریٹ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دورے کے دوران میں نے وادی کے 9 اضلاع کے لیڈروں اور کارکنوں سے ملاقات کی، میں یہاں ہزاروں لوگوں سے ملا اور قریب 60 سے 70 وفود ملنے آ ے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چشم کشا ہے جتنے بھی لوگوں سے ملا اور مجھے ان کی مشکلات اور خواہش کے بارے معلوم ہوا۔ شہریوں کی حالیہ ہلاکتوں پر آ زاد نے کہا کہ جو بھی ان سے ملا ، انہوں نے ان وحشیانہ ہلاکتوں ، چاہیے وہ مسلم، ہندو، سکھ یا کشمیری پنڈت ہو، جسب نے ان انسانیت سوز وارداتوں کی مذمت کی۔ آزاد نے کہاکہ وادی کے لوگ اس قتل کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں کہ ملک کے باقی حصوں نے ایک خوف کے طور پر لوگوں کو گھیر لیا ہے کہ اس کا ردعمل سرینگر میں ہو گا نہ کہ ملک کے کسی اور حصے میں۔ انہوںنے کہاکہ ’’مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پوری وادی متفقہ طور پر ٹارگیٹ کلنگ کے خلاف ہے اور وادی میں لوگوںنے کبھی بھی ملی ٹینسی کی حمایت نہیں کی ہے اور اس کے سبب وادی اقتصادی طور پر کمزور اور پسماندگی کی طرف چلی گئی ہے‘‘۔ وادی میں نئے پروجیکٹوں اور تعمیراتی کاموں کے سنگ بنیاد ڈالنے کے سوال کے جواب میں آزاد نے کہا کہ سرسبز میدان میں سنگ بنیاد ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ نئے سنگ بنیاد ڈالنے کے بجائے انتظامیہ کو ایسا میکانزم بنانا چاہئے جس سے مقامی وسائل میں اضافہ ہو اور تعمیراتی کاموں کا فائدہ یہاں کی آبادی کو مل سکے۔