سری نگر//فورسز نے وادی کشمیر میں جنگجوئوں مخالف آپریشنوں میں تیزی کو جاری رکھتے ہوئے بدھکے روز جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال کے دور افتادہ گائوں واگڈ ترال میں ایک مختصر جھڑپ کے دوران جیش محمد کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو جھڑپ میں مارا گیا ہے ۔اس دوران آئی جی پی کشمیر نے ایک ٹویٹ میں بتایا مارا گیا جنگجوئوں جیش کا ایک سرگردہ کمانڈر تھا جو کئی سال سے علاقے میں سرگرم تھا۔علاقے میں ممکنہ طور چھپے جنگجوئوں کو تلاش کرنے کے لئے فوج اور فورسز کی بھاری نفری کو علاقے میں طلب کیا گیا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال سے قریب9کلو میٹر دور واگڈ نامی گائوں میں بدھ کے روز بعد دو پہر2بجے کے قریب فوج کے42RRاور ایس او جی کی ایک پارٹی گائوں میں جنگجوئوں کی موجودگی کے حوالے سے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد علاقے میں داخل ہوئی ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا اس دوران جب فوج کی تلاشی پارٹی گائوں اس جگہ پر پہنچی جہاں جہاں جنگجو چھپا بیٹھا تو انہوں فوج کی تلاشی پارٹی پر فائرنگ کر کے فرار ہونے کی کوشش کی ہے جس دوران انہوں نے فوج نے جوابی فائرنگ کی جس کے ساتھ یہاں تصادم آرائی شروع ہوئی ہے ۔ابتدائی فائرنگ کے بعد فوج اور پولیس کی بھاری نفری کو علاقے میں طلب کر کے پورے گائوں کو سیل کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے جائے جھڑپ سے ایک جنگجوکی لاش برآمد کی ہے ۔جھڑپ کے فوراً بعد آئی جی پی کشمیر وجے کمار کے حوالے کشمیر پولیس زون نے ایک تویٹ میں مارے گئے جنگجوکی شناخت جیش کے سرکردہ کمانڈر شمیم احمد صوفی ساکن ستورہ ترال کے طور کی ہے جو علاقے میں 3سال سے سرگرم تھا ۔علاقے میں اگر چہ گولیوں کا سلسلہ تھم گیا ہے تاہم وسیع علاقے کو فوج اور فورسز نے محاصرے میں لے کر ممکنہ طور چھپے دیگر جنگجوئوں کی تلاش جاری رکھا ہے علاقے میں شام دیر گئے تک تلاشی آپریشن جاری تھا ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وادی کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے بعدجنگجومکالف آپریشنوں میں تیزی لائی گئی ہے جس دوران وادی کشمیر میں3رو ز کے دوران 8جنگجوئوں مختلف تصادم آرائیوں میں جاں بحق ہوئے ہیں ۔










