فاروق عبداللہ نے صدر ہند کو مکتوب روانہ کیا، حیدر پورہ قتل کی وقتی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا

کشمیربھارت کا ہے اور رہے گا کبھی پاکستان کا حصہ نہیں بنے گا:ڈاکٹرفاروق

سری نگر//نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ کشمیر کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں بنے گا اور ہمیشہ بھارت کے ساتھ رہے گا چاہے ۔انہوں نے کہا سارے ہندوستان میں لوگوں کو مذہب کے نام پر بانٹنے کا طوفان بپاہے جبکہ سب کو مل کر اس طوفان کو روکنا ہے ۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ ملک میں تقسیم کی سیاست کا خاتمہ ضروری ہے جو ملک کے مفاد میں بصورت دیگر تقسیم سے ملک ہی نہیں رہے گا ۔انہوں نے کہا لوگوں کو معاشرے کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنا چھوڑ دینا چاہیے نیشنل کانفرنس صدر نے بتایا کشمیر کبھی بھی پاکستان کبھی نہیں بنے گا ۔انہوں نے کہا ہم بھارت کا حصہ ہیں اور ہم بھارت کا حصہ رہیں گے۔سری نگر کے باغات گرودوارہ گزشتہ دنوںنا معلوم بندوق برداروں کے ہاتھوںہلاک ہونے والی سکول پرنسپل سپندر کور کی انتم ارداس کے دوران عبداللہ نے سوگواروں سے کہا ، “وہ (عسکریت پسند) مجھے تبدیل نہیں کر سکتے ہیں چاہے وہ مجھے گولی مار دیں۔”ہم سب کو مل کر ہمت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا ہے اور خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ایک استاد جو نوجوان طالب علموں کو تعلیم کے نور سے منور کرتی تھی اسے قتل کرنا اسلام کی خدمت نہیں ہے ۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ ملک میں تفرقہ بازی کی سیاست بند ہونی چاہیے ورنہ ملک نہیں بچے گا۔ملک میں طوفان برپا ہے۔ مسلمان ، سکھ اور ہندو تقسیم ہو رہے ہیں۔ اس تقسیم کی سیاست کو روکنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو ہندوستان زندہ رہے گا اور نہ ہی رہے گا۔موصوف این سی صدر نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز یہاں مقتولہ سکول پرنسپل سپیندر کور کے گھر پر تعزیت پرسی کے بعد نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’سارے ہندوستان میں ایک طوفان بپا ہے اور مسلمانوں، ہندوؤں، سکھوں کو بانٹا جا رہا ہے بانٹنے کی اس سیاست کو بند کرنا ہوگا اگر اس کو بند نہیں کیا گیا تو ہندوستان بھی نہیں بچے گا ہم سب کو اکٹھے ہو کر رہنا ہے‘۔کشمیر میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ’ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہے، ہمت نہیں ہارنی ہے ان سے ڈرنا نہیں ہے، یہ لوگ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے‘۔دویندر سنگھ رانا اور سرجیت سنگھ سلاتھیہ کے پارٹی سے مستعفی ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا: ’جماعت میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے‘۔بتادیں کہ 7اکتوبر کی صبح بائز ہائیر اسکنڈری سکول عید گاہ سری نگر کے احاطے میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے اسکول پرنسپل سپیندر کور ساکن ا?لوچی باغ سری نگر اور ان کے ایک ساتھی دیپک چند ساکن جموں کو گولیاں بر سا کر ابدی نیند سلا دیا تھا۔