محنت کشوں کاعالمی دن ،EJCCاور فوڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن جموں وکشمیرکی مشترکہ تقریب

بے روزگاری اور مہنگائی میں جموں وکشمیر ملک میں سرفہرست

نااہل حکمران سڑکوں پر رنگ و روغن جیسے لیپاپوتی کے اقدامات میں مصروف:نیشنل کانفرنس

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر میں بے روزگاری اور مہنگائی میں بے تحاشہ اضافے پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر زمین و آسمان کے قلابے ملانے کے کتنے ہی جھوٹے دعوے کیوں نہ کرے لیکن زمینی سطح کے اعداد و شمار سے حکومتی پروپیگنڈا ریت کی دیوار ثابت ہوجاتا ہے۔ پارٹی کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سینٹرل فار مونیٹرنگ انڈین اکنامی(CMIE)کے تازہ اعداد وشمارکے مطابق جموں وکشمیر میں بے روزگاری کی شرح 21.6فیصد ہے جبکہ دیگر ریاستوں میں یہ شرح 15فیصد کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ اڑھائی سال سے جموں وکشمیر کو اندھیروں میں دھکیلنے کا سلسلہ دن رات جاری رکھا گیا ہے اور جان بوجھ کر نوجوان کُش پالیسیاں اپنائی گئیں ہیں۔ ملک اور باہری دنیا کو دکھانے کیلئے گذشتہ 3برسوں سے لگاتار 60ہزار سریع الرفتار سرکاری ملازمتیں دینے کے اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن اُلٹا یہاں کے ملازمین کو نوکریاں سے برطرف کیا جارہا ہے۔ حکومت سطح پر دعوے کئے جارہے ہیں کہ یہاں سرمایہ کاری ہوگی اور 5لاکھ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے لیکن گذشتہ اڑھائی سال سے یہاں ایک بھی سرمایہ کاری دیکھنے کو نہیں ملی۔ این سی ترجمان نے کہا کہ بے روزگاری کے لحاظ سے جموں وکشمیر کا ملک میں سرفہرست آنا حکمرانوں اور گذشتہ 3سال سے جاری مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر انتظامیہ کی ہر سطح پر ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مہنگائی کے لحاظ سے بھی جموں و کشمیر پورے ملک میں ایک بڑے فرق سے سرفہرست ہے۔ جہاں پورے ملک میں افراط زر کی اوسط شرح 4.35ہے وہیں جموں وکشمیر میں افراط زدکی شرح7.39فیصد ہے اور آسمان چھوتی اس مہنگائی کا سلسلہ گذشتہ4ماہ سے جاری ہے۔ این سی ترجمان نے کہا کہ حکومتی اور انتظامی کا ناکامی اور نااہلی کا خمیازہ یہاں کے عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ حکمران سڑکوں پر رنگ و روغن جیسے لیپاپوتی کے اقدامات میں مصروف ہیں جبکہ عام آدمی کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرپانا بھی ہر گزرتے دن کیساتھ محال ہوجاتا جارہا ہے۔