انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کرنا سرکاری معاملہ نہیں: دہلی ہائی کورٹ

انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کرنا سرکاری معاملہ نہیں: دہلی ہائی کورٹ

نئی دہلی/یو این آئی// دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ محض سوشل میڈیا پلیٹ فارم فراہم کرنا، جہاں لوگ ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں اور سماجی طور پر میل جول رکھ سکیں، کسی سرکاری کام یا عوامی ذمہ داری کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف اس بنیاد پر میٹا پلیٹ فارمز انڈیا کے خلاف آئین کی دفعہ 226 کے تحت ہائی کورٹ میں رِٹ درخواست دائر نہیں کی جا سکتی کہ اس کا پلیٹ فارم معلومات پھیلانے اور عوامی رائے بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جسٹس امیت مہاجن نے یہ تبصرے سارتھک بھگت کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران کیے۔درخواست گزار نے شکایت کی تھی کہ انسٹاگرام نے اسے پیشگی اطلاع دیے بغیر اور اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیے بغیر اس کے اکاؤنٹس بند کر دیے تھے۔ عدالت نے کہا کہ انسٹاگرام عوامی بحث و مباحثے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن اس کا بنیادی کام اظہارِ خیال کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ عوامی مباحثے میں اس کا کردار اس کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ کوئی ایسی عوامی ذمہ داری جسے ادا کرنا اس پر قانوناً لازم ہو۔ عدالت نے 27 اکتوبر کو جاری اپنے حکم میں کہا کہ میٹا پر کسی عوامی ذمہ داری کے تحت ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا لازم نہیں ہے اور نہ ہی قانون اسے اپنی خدمات فراہم کرنے کا پابند بناتا ہے۔ اس کی خدمات رضاکارانہ ہیں اور صارفین کی سرگرمیوں پر منحصر ہیں۔
ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ میٹا کی سرگرمیاں نجی نوعیت کی ہیں اور حکومت نے کوئی روایتی سرکاری کام اس کمپنی کو سونپا نہیں ہے۔ اس لیے میٹا پلیٹ فارمز انڈیا ایسا عوامی کام انجام نہیں دیتا اور نہ ہی ایسی عوامی ذمہ داری نبھاتا ہے جس کی بنیاد پر اسے آئین کی دفعہ 226 کے تحت ہائی کورٹ کے رِٹ دائر? اختیار میں لایا جا سکے۔ عدالت کے مطابق، اس نجی کمپنی کے خلاف درخواست گزار کے لیے مناسب قانونی راستہ دیوانی مقدمہ دائر کرنا ہو سکتا ہے، جس میں وہ، اگر کوئی نقصان ہوا ہے تو، ہرجانے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔