راج ناتھ سنگھ آج اور کل تاجکستان کا دورہ کریں گے
سرینگر / این این بی // 19 اور 20 اکتوبر کو تاجکستان کے دارالحکومت میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان حکومت اجلاس میں شرکت کیلئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ دورہ کریں گے جس دوران اجلاس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں، ڈیجیٹل معیشت اور کثیرالجہتی تعاون پر تبادلہ خیال متوقع ہے ۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق وزیر دفاع راجناتھ سنگھ 19 اور 20 اکتوبر کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ کا دورہ کریں گے، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کی کونسل کے 25ویں اجلاس میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس اہم اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے، علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں باہمی اشتراک کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کیے جانے کی توقع ہے۔وزارتِ دفاع کے مطابق اجلاس کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک جاری تعاون کے اقدامات کا جائزہ لیں گے اور تنظیم کے مالیاتی و ادارہ جاتی امور سے متعلق مختلف تجاویز اور فیصلوں پر بھی غور کریں گے۔ اس موقع پر تجارت، معیشت، اختراعات، ڈیجیٹل ترقی اور ثقافتی و انسانی تبادلوں سمیت متعدد اہم معاملات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔دوشنبہ میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو مشترکہ اقتصادی ترجیحات اور علاقائی ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کا اہم موقع فراہم کرے گا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، نقل و حمل اور لاجسٹکس، صنعتی تعاون، تخلیقی و ڈیجیٹل معیشت، اختراعات اور مالیاتی روابط جیسے اہم شعبے شامل ہونے کی توقع ہے۔روسی تجارتی مشن کے حوالے سے خبر رساں ادارے انٹرفیکس کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں سماجی، ثقافتی اور انسانی شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی مفادات پر مبنی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ہندوستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارت میں اضافے، تجارتی اخراجات میں کمی، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور علاقائی رابطوں کو بہتر بنانے کی ضرورت پر مسلسل زور دیا ہے۔ہندوستانی حکام کے مطابق رکن ممالک کے درمیان تجارت کو آسان بنانے کے لیے کسٹم کے طریقہ کار کو سادہ بنانا، کاغذ کے بغیر تجارت کو فروغ دینا، الیکٹرانک دستاویزات کے تبادلے کو وسعت دینا اور نقل و حمل کے مختلف ذرائع کو مربوط کرنا اہم اقدامات ہیں۔وزارتِ تجارت و صنعت کے مطابق ستمبر میں دوشنبہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ان وزراءکا اجلاس منعقد ہوا تھا جو بیرونی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے ذمہ دار ہیں۔ اس اجلاس میں ہندوستان نے تجارتی طریقہ کار کو آسان بنانے، ڈیجیٹل دستاویزات کے استعمال اور مضبوط ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔ہندوستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ متعدد اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات بھی اجاگر کیے ہیں۔ ان میں زراعت، اہم معدنیات، ادویہ سازی، مینوفیکچرنگ، الیکٹرانکس، توانائی کا تحفظ، قابلِ تجدید توانائی اور گرین ہائیڈروجن شامل ہیں۔ان شعبوں میں مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے ذریعے رکن ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات موجود ہیں۔توانائی کے شعبے میں تعاون کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ خطے کے ممالک توانائی کی ضروریات پوری کرنے، صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے اور مستقبل کی توانائی سے متعلق ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔










