1945 کے بعد پہلی امریکی فوجی سزائے موت براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ

1945 کے بعد پہلی امریکی فوجی سزائے موت براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن/ایجنسیز// امریکی دفتر دفاع پینٹگان نے کہا ہیکہ امریکی فوج 2009 میں فورٹ ہڈ فوجی اڈہ پر 13 افراد کو قتل کرنے والے حملہ آور نضال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعہ سزائے موت دینے کی کارروائی براہ راست نشر کرے گی۔ یہ امریکی تاریخ میں کسی سزائے موت کی کارروائی کی اپنی نوعیت کی پہلی براہ راست نشریات ہوگی۔نضال حسن نے 2009 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر کلین کے قریب واقع فوجی اڈہ فورٹ ہڈ میں فائرنگ کر کے 13 افراد کو قتل اور کم از کم 30 کو زخمی کر دیا تھا، جن میں سے زیادہ تر فوجی اہلکار تھے۔ انہیں اس جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔سابق فوجی ماہرِ نفسیات نضال حسن 1945 کے بعد امریکی فوج کی جانب سے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعہ سزائے موت پانے والے پہلے شخص بننے والے ہیں۔رائٹرز کے مطابق سزائے موت دینے کی کارروائی تین دسمبر کو ٹیکساس میں واقع اسی وسیع فوجی اڈہ پر طے ہے، جہاں نضال حسن نے ایک طبی مرکز میں لیزر سے نشانہ لگانے کی سہولت والے پستول سے فائرنگ کی تھی۔یہ کارروائی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گذشتہ ہفتے ریاست ٹینیسی میں ایک خاتون کو زہریلا انجیکشن دے کر سزائے موت دینے کی ناکام کوشش کے بعد امریکہ میں سزائے موت پر بحث میں شدت آگئی ہے۔پینٹگان کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا: ’اس کارروائی کو براہِ راست نشر کیا جائے گا۔ تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔‘پینٹگان کی جانب سے جمعرات کو شیئر کی گئی ایک ویڈیو کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ فوجی اڈہ پر فائرنگ کے جرم میں سزا یافتہ نضال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعہ ’عوام کے سامنے’ سزائے موت دی جائے گی۔
پینٹگان کے مختلف سرکاری اکاؤنٹس سے ایکس پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دائیں بازو کے سوشل میڈیا انفلوئنسر جیک پوسوبیک کو بتایا: ’اسے فوجیوں کا فائرنگ اسکواڈ سزائے موت دے گا، جیسا کہ ہونا چاہیے اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں اور یہ سب عوام کے سامنے ہو۔‘امریکی وزیر دفاع نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا: ’لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہیکہ اس طرح کے اقدامات کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔‘انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گذشتہ سال سزائے موت دیے جانے کے کم از کم 17 ایسے واقعات سامنے آئے، جنہیں عوام کے سامنے انجام دیا گیا۔ ان میں سے چھ افغانستان اور 11 ایران میں تھے۔