ہندوستان میں ڈیجیٹل ادائیگی آج ہر کسی کی زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ شہر سے لے کر گاؤں تک ہر جگہ یو پی آئی کا استعمال عام ہو گیا ہے۔ اس ادائیگی کے نظام کو اتنا بڑا اور مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے مسلسل بینکوں کو مالی مدد فراہم کی ہے۔ لیکن اب یو پی آئی ایکو سسٹم پوری طرح بدل رہا ہے۔ حکومت کم مالیت کے یو پی آئی لین دین پر ملنے والی سبسڈی بند کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ بڑے لین دین پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کا نافذ ہونا ہے۔ بڑی ادائیگیوں پر ایم ڈی آر کے ذریعہ بینکوں کی آمدنی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ ایسے میں حکومت کو لگ رہا ہے کہ جب بینک خود پیسہ کمانے لگیں گے تو اب سرکاری خزانے سے سبسڈی دینے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ میں ڈیجیٹل لین دین کی دنیا میں کئی بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ حکومت نے بڑے مرچنٹ پیمنٹس پر ایم ڈی آر نافذ کر دیا ہے۔ 15 اکتوبر 2026 سے این پی سی آئی کے نئے قواعد کے تحت 2,000 روپے سے زیادہ کی منتخب یو پی آئی مرچنٹ (پی 2 ایم) ادائیگیوں پر 0.4 فیصد کا مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) نافذ ہو جائے گا۔
جیسے ہی بڑی ادائیگیوں پر ایم ڈی آر سے آمدنی شروع ہوگی، حکومت اپنی مالی مدد کی اسکیم کو سمیٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اب پیمنٹ کمپنیوں کے ساتھ ساتھ بینکوں کو نیٹورک سے براہ راست لین دین پر مبنی آمدنی ملنے لگے گی۔ جب پورا نظام خود آمدنی پیدا کرنے لگے گا تو حکومت چھوٹی ادائیگیوں پر اپنی طرف سے دی جانے والی مالی مدد روکنا چاہتی ہے۔ ’اکنامکس ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2027 کے لیے حکومت نے 2,000 کروڑ روپے کا بجٹ تو رکھا تھا، لیکن عملی طور پر اپریل 2025 کے بعد سے کوئی بھی نئی سبسڈی جاری نہیں کی گئی ہے۔
اس ممکنہ فیصلہ کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ بچانا ہے۔ بینکنگ شعبہ سے وابستہ ایک سینئر افسر کے مطابق بڑی ادائیگیوں پر ایم ڈی آر نافذ کرنے کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹم ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر منحصر نہ رہے۔ افسر نے واضح طور پر بتایا کہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے حکومت کی طرف سے کوئی بھی نئی سبسڈی نہیں دی گئی ہے۔ حکومت بالکل نہیں چاہتی تھی کہ ٹیکس دہندگان کی خون پسینے کی کمائی سے بڑے تاجروں کو ہونے والی ادائیگیوں پر کوئی چھوٹ دی جائے۔ اگر ہم گزشتہ چند سال کے سرکاری اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ حکومت آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ رہی تھی۔ مالی سال 2024 میں یو پی آئی ترغیبی رقم کے طور پر بینکوں کو 3,631 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے تھے۔ وہیں مالی سال 2025 میں یہ اعداد و شمار تیزی سے گر کر محض 1,046 کروڑ روپے رہ گیا۔ فنڈ میں آئی اس بڑی کمی سے واضح اشارہ مل رہا تھا کہ حکومت جلد ہی اس ترغیبی اسکیم کو پوری طرح بند کر سکتی ہے۔ اب ایم ڈی آر سے آمدنی حاصل ہونے کی بات نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔
ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگی کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے بڑا قدم اٹھایا تھا۔ جنوری 2020 میں یو پی آئی اور روپے ڈیبٹ کارڈ ادائیگیوں پر ایم ڈی آر کو پوری طرح صفر کر دیا گیا تھا۔ اس وقت صفر ایم ڈی آر کی وجہ سے بینکوں کو ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے حکومت نے یہ سبسڈی اسکیم شروع کی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد چھوٹے دکانداروں کو ڈیجیٹل ادائیگی اپنانے کے لیے ترغیب دینا تھا۔ اس کے علاوہ ٹائر-2، ٹائر-3 شہروں سے لے کر دیہی علاقوں تک محفوظ ادائیگی کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا بھی حکومت کا مقصد تھا۔ آج جب وہ مقصد بڑی حد تک پورا ہو گیا ہے اور بینکوں کی اپنی آمدنی کا راستہ صاف ہو گیا ہے تو حکومت اس سبسڈی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا ارادہ کر چکی ہے۔










