2025میں 350 انسانی امدادی کارکنوں کاقتل ہوا: اقوام متحدہ

2025میں 350 انسانی امدادی کارکنوں کاقتل ہوا: اقوام متحدہ

نیویارک/ایجنسیز//اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور کے ہنگامی امدادی دفتر نے بتایا ہیکہ سال 2025 میں مارے جانے ہونے والے امدادی کارکنوں کی تعداد 350 رہی۔ ان میں سے 186 غزۃ اور 71 سوڈان میں مارے گئے۔دفتر نے ایک بیان میں نشاندہی کی کہ سال 2025 امدادی کارکنوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات کے حوالے سے ایک اور المناک اور ریکارڈ سال ثابت ہوا۔ اس شعبے کے 907 کارکن ہلاک، زخمی یا اغوا ہوئے۔ تحقیقاتی ادارہ ہیومینیٹیرین آؤٹ کمز کے ڈیٹا بیس سے حاصل کردہ ان اعداد و شمار کے مطابق مرنے والوں کی یہ تعداد 2024 سے معمولی سی کم تھی۔ 2024 میں 377 امدادی کارکن ہلاک ہوئے تھے۔اوچا کے مطابق سال 2026 کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں 82 امدادی کارکن قتل، 97 زخمی اور 39 اغوا ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہیکہ صرف تین برس میں ایک ہزار سے زیادہ امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے مزید کہا لیکن صرف مذمت کر دینے سے انہیں تحفظ نہیں ملے گا۔ ریاستوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی اور عام شہریوں اور ہمارے ساتھیوں کی حفاظت کیلئے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے ہوں گے۔ اسی طرح قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اپنے افعال کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔ اوچا نے یہ بھی بتایا کہ کم لاگت اور جدید تکنیک سے لیس مسلح ڈرونز کا پھیلاؤ انتہائی تشویشناک ہے۔ اس سے مختلف فریقوں کو مہلک قوت استعمال کرنے کی صلاحیت مل رہی ہے۔اوچا کے مطابق سوڈان میں سال 2026 کے پہلے چار ماہ میں عام شہریوں کی 80 فیصد ہلاکتیں انہی مسلح ڈرونز کی وجہ سے ہوئیں جن میں خاص طور پر منڈیوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ فلیچر نے مزید کہا کہ مسلح ڈرونز ایک پرانے خطرے کا نیا روپ بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعہ عام شہریوں کی زندگیوں کو جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی بدلے گی اور آگے بڑھے گی، لیکن جنگ کے بنیادی قوانین کبھی نہیں بدلتے۔