13ویں لداخ میراتھن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں شرکاء کی تعداد میں 53 فیصد اضافہ
سرینگر/ / لداخ میراتھن کے 13ویں ایڈیشن میں اس بار ریکارڈ ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم رکھی گئی ہے، جبکہ میراتھن کے لیے رجسٹریشن کرانے والے شرکاء کی تعداد بھی تقریباً 10 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے آج لہہ میں 13ویں لداخ میراتھن کی سرکاری جرسی لانچ کی، جس کے ساتھ ہی ایونٹ کی باضابطہ سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔انتظامیہ کے مطابق اس سال میراتھن میں تقریباً 10 ہزار رنرز نے رجسٹریشن کرائی ہے، جبکہ گزشتہ سال 6,521 افراد نے شرکت کی تھی۔ اس طرح شرکاء کی تعداد میں تقریباً 53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو لداخ میراتھن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔انتظامیہ نے کہا کہ انعامی رقم میں اضافہ کھیلوں کے فروغ اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں نوجوانوں کی کھیلوں کی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔ بڑی تعداد میں کھلاڑیوں کی شرکت سے لداخ کو ایڈونچر اور اینڈورنس ٹورازم کے اہم مرکز کے طور پر فروغ ملنے کی بھی توقع ہے۔جرسی لانچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے کہا کہ لداخ میراتھن محض ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ لداخ کی ثابت قدمی، ثقافتی رنگا رنگی اور قدرتی ماحول کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میراتھن مقامی نوجوانوں کو اپنی کھیلوں کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے اور اس کے ذریعے لداخ کو ایڈونچر سپورٹس کے مرکز کے طور پر مزید شناخت حاصل ہوسکتی ہے۔انتہائی بلندی پر منعقد ہونے والی لداخ میراتھن بین الاقوامی انڈورنس سپورٹس کیلنڈر میں ایک منفرد مقام حاصل کرچکی ہے۔ دشوار گزار پہاڑی راستوں، انتہائی بلندی اور لداخ کے منفرد قدرتی مناظر کے امتزاج نے اسے ملک اور بیرون ملک سے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے پرکشش بنا دیا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میراتھن کے وسیع تر مقاصد میں لداخ کو کھیلوں کی عمدگی کے مرکز کے طور پر فروغ دینا، مقامی آبادی کی ترقی میں بڑے کھیلوں کے مقابلوں کا کردار بڑھانا، ماحولیاتی بیداری پیدا کرنا اور خطے کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنا شامل ہے۔تقریباً 10 ہزار رنرز کی رجسٹریشن اور ایک کروڑ روپے کی ریکارڈ انعامی رقم کے ساتھ اس سال کی لداخ میراتھن کو اب تک کا سب سے بڑا ایڈیشن قرار دیا جا رہا ہے، جس میں کھلاڑیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں سیاح اور مقامی افراد بھی شریک ہوں گے۔










