کینسر کی بڑھتی شرح کے پیش نظر اسکریننگ پروگرام شروع کرنے کی کی تجویز

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی ریسرچ اداروں سے اظہارِ دلچسپی طلب، چار سالہ تحقیقی منصوبہ تیار ہوگا

سرینگر//کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے پیش نظر انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے جموں و کشمیر میں ایک بڑے پیمانے پر کینسر اسکریننگ اور روک تھام پروگرام شروع کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد بیماری کی ابتدائی تشخیص اور بروقت علاج کو یقینی بنانا ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی سی ایم آر نے تحقیقی اداروں سے اظہارِ دلچسپی طلب کئے ہیں تاکہ ’’جموں و کشمیر میں زبانی، چھاتی، سرویکل اور گیسٹرو انٹیسٹینل کینسر کی روک تھام اور اسکریننگ‘‘ کے عنوان سے ایک جامع منصوبہ تیار اور نافذ کیا جا سکے۔یو ای ن ایس کے مطابق اس پروگرام کا بنیادی مقصد صحت عامہ کے موجودہ نظام کے ذریعے کینسر کی جلد تشخیص کو بہتر بنانا اور دیر سے تشخیص کے مسئلے کو کم کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت زبانی کینسر کی اسکریننگ 18 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں، چھاتی کے کینسر کی اسکریننگ 30 سال سے زائد عمر کی خواتین میں، جبکہ سرویکل کینسر کی اسکریننگ 30 سے 60 سال کی جنسی طور پر فعال خواتین میں کی جائے گی۔ اسی طرح گیسٹرو انٹیسٹینل کینسر کی اسکریننگ 40 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کیلئے تجویز کی گئی ہے۔آئی سی ایم آر کے مطابق بھارت میں کینسر کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں خاص طور پر چھاتی اور پھیپھڑوں کے کینسر عام ہیں۔ اس کے علاوہ معدے اور غذائی نالی کے کینسر وادی کشمیر میں ایک سنگین عوامی صحت چیلنج کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔منصوبہ نیشنل پروگرام فار پریونشن اینڈ کنٹرول آف نان کمیونی کیبل ڈیزیزز کے تحت نافذ کیا جائے گا، جس کا مقصد ایک ایسا قابلِ عمل اور توسیع پذیر ماڈل تیار کرنا ہے جو قومی صحت نظام میں شامل کیا جا سکے۔اس منصوبے کے تحت اسکریننگ کا عمل ضلعی ہسپتالوں، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز، پرائمری ہیلتھ سینٹرز اور آیوشمان آروگیا مندرز کے ذریعے انجام دیا جائے گا، جبکہ ہر منتخب پروپوزل کے تحت کم از کم ایک ضلع کا احاطہ کیا جائے گا۔پروگرام کا ایک اہم پہلو صحت کارکنوں اور آشا ورکرز کی تربیت ہوگا تاکہ وہ ابتدائی اسکریننگ، مشاورت، ریفرل اور فالو اپ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ چار سالہ اس تحقیقی منصوبے میں تیاری، عملدرآمد اور تجزیہ کے مراحل شامل ہوں گے۔ماہرین صحت کے مطابق اس پروگرام سے نہ صرف کینسر کی بروقت تشخیص ممکن ہوگی بلکہ علاج کے بہتر نتائج، عوامی آگاہی اور صحت کے نظام میں اسکریننگ کے انضمام کو بھی فروغ ملے گا۔