لکھنؤ/یواین آئی// اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے یومِ مزدور کے موقع پر ملک کے مزدوروں اور محنت کشوں کی حالت پر تشویش ظاہر کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں مرد و خواتین مزدوروں اور محنت کش طبقے کی حالت میں کئی کوششوں کے باوجود اب تک مطلوبہ بہتری دیکھنے کو نہیں ملی ہے ۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ “یومِ مزدور” کی اہمیت آج بھی کم نہیں ہوئی ہے ۔ اس موقع پر انہوں نے روزمرہ کی جدوجہد میں مصروف تمام محنت کش افراد کو مبارکباد دی اور ان کے بہتر مستقبل اور خوشحال دنوں کی دعا کی۔ مایاوتی نے کہا کہ ملک کی تعمیر میں مزدوروں اور محنت کش طبقے کا اہم کردار رہا ہے ۔ انہوں نے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آزادی سے پہلے اور بعد میں بھی مزدوروں کے لیے باعزت اور خوشحال زندگی کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا تھا۔ تاہم موجودہ حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹھیکہ نظام، یومیہ اجرت کی بنیاد پر کام اور ملازمت میں رکھے جانے اور نکالے جانے کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے مزدور طبقہ نئی مشکلات اور روزگار کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے ۔ اس کا اثر ان کے خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت پر بھی پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین کے لیے محفوظ کام کے ماحول کا فقدان بھی ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ مایاوتی نے تمام حکومتوں سے اپیل کی کہ ملک کی ترقی میں مزدور اور محنت کش طبقے کی مناسب شراکت کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ان کی پارٹی کی جدوجہد ہمیشہ محنت کش بہوجن سماج کے حقوق کے لیے وقف رہی ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔










