جموں میں شدید بارشوں کا قہر جاری ، رام بن میں بادل پھٹ گئے ، ریاسی میں لینڈ سلائیڈنگ
سرینگر / سی این آئی // جموں میں جاری موسمی قہر سامانیوں کے بیچ ریاسی میں تازہ لینڈ سلائیڈنگ اور رام بن میں بادل پھٹ جانے کے نتیجے میں پانچ معصوم بچوں سمیت 11افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ ایک خاتون لاپتہ ہے ۔ واقعات کے بعد انتظامیہ متاثرین کی راحت رسانی اور امدادی کارورائیوں میں مصروف عمل ہے۔ ادھر مرکزی وزیر جتیندر سنگھ، لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سی این آئی کے مطابق جموں میں موسمی قہر سامانیوں جاری ہے ۔ تازہ بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ اور بادل پھٹ جانے کے نتیجے میں مزید 11انسانی جانیں تلف ہوئی ہے ۔ حکام کے مطابق رام بن میں بارشوں کے چلتے بادل پھٹ جانے کا واقعہ رونما ہوا جبکہ ریاسی میںلینڈ سلائیڈنگ ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاسی میں لینڈ سلائیڈنگ اور رام بن ضلع میں بادل پھٹنے سے کم از کم گیارہ افراد موت کی آغوش میں چلیں گے ۔ حکام نے بتایا کہ ضلع ریاسی کے ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک مکان پر مٹی کا تودہ گرنے سے ایک خاندان کے سات افراد ہلاک ہو گئے۔انہوں نے بتایا کہ مہور کے بدر گاؤں میں شدید بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور تمام سات لاشیں نکال لی گئی ہیں۔مرنے والوں کی شناخت 38سالہ نذیر احمد ان کی بیوی وزیرہ بیگم اور ان کے بیٹے بلال احمد (13)، محمد مصطفیٰ (11)، محمد عادل (8)، محمد مبارک (6) اور محمد وسیم (5) کے طور پر کی گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ نذیر اور اس کا خاندان سو رہے تھے جب پہاڑی ڈھلوان پر واقع ان کا مکان مٹی کے تودے کی زد میں آ گیا جس سے وہ زندہ دب گئے۔انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے ملبے کو تلاش کیا اور بعد میں پولیس بھی ان کے ساتھ مل گئی لیکن صرف لاشیں نکالنے میں کامیاب ہو سکے۔ رات بھر جموں و کشمیر کے وسیع حصوں میں درمیانی سے بھاری بارش ہوئی۔دریں اثناء ، دو بھائیوں سمیت چار افراد اس وقت جاںبحق ہو گئے رام بن ضلع کے ایک دور افتادہ گاؤں میں بادل پھٹنے سے دو مکانات اور ایک سکول کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ بادل پھٹنے سے ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور واقع پہاڑی راج گڑھ میں جمعہ کی رات تقریباً 11.30 بجے سیلاب آیا۔رام بن کے ڈپٹی کمشنر محمد الیاس خان نے بتایا، ’’بچاؤ کرنے والوں کی سخت تلاش کے بعد ملبے کے نیچے سے چار لوگوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں، جن میں مقامی رضاکاروں، پولیس اور ایس ڈی آر ایف شامل ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایک اور لاپتہ شخص کی لاش کی تلاش جاری ہے۔رام بن کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ارون گپتا کے ساتھ، ریسکیو اور ریلیف آپریشن کی نگرانی کے لیے صبح سویرے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔حکام نے مرنے والوں کی شناخت اشونی شرما (24)، اس کے بھائی دوارکا ناتھ (55)، بھتیجی ورتا دیوی (26) اور ان کے مہمان اوم راج (38) کے طور پر کی ہے، جو راج گڑھ کے بنشارا کے رہنے والے ہیں۔ بچانے والے شرما کی بھابھی بدیا دیوی (55) کی تلاش کر رہے ہیں۔ایک مقامی اجے کمار نے کہا’’بادل پھٹنے کا واقعہ پرائمری اسکول کے قریب پہاڑی کی چوٹی پر واقع گاؤں پر ہوا اور اس نے ڈروبلا-گڈگرام گاؤں کے ذریعے ایک تیز بہنے والی ندی بنا دی، جس سے اسکول کی عمارت کے علاوہ دو رہائشی مکانات اور ایک گائے کی چھت بھی بہہ گئی۔خان نے کہا’’ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے‘‘۔ادھر مرکزی وزیر جتیندر سنگھ، جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔










