سری نگر//وادی ٔکشمیر کے مشہور و معروف دستکاری شعبے کو ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے جہاں موجودہ مالی برس کی پہلی سہ ماہی میں ہاتھ سے بنی مصنوعات کی برآمدات 309.62 کروڑروپے تک پہنچ گئیں جو کہ گزشتہ مالی برس کی اِسی مدت میں 126.90کروڑروپے تھیں۔متعلقہ مالیاتی اِداروں کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں 243 فیصد کا ریکارڈ اِضافہ درج ہوا ہے جو گزشتہ چار برسوں میں پہلی سہ ماہی کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے۔محکمہ ہینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈلوم کشمیر کے ترجمان نے آج یہاں ایک پریس بیان میں کہا کہ محکمہ رواں مالی برس میں 1500 کروڑ روپے سے زائد کی برآمدات کا ہدف رکھتا ہے بشرطیکہ عالمی سطح پر جاری تنازعات میں کمی واقع ہو۔گزشتہ مالی برس کے دوران مجموعی طور پر 733.59 کروڑ روپے کی مصنوعات برآمد کی گئی تھیں، تاہم عالمی سطح پر جاری تنازعات کے باعث یہ شعبہ متاثر رہا۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ کانی اور سوزنی شالیں اور ہاتھ سے بنے قالین برآمدات میں سرفہرست رہے جبکہ کریول، پیپر ماشی، چین سٹچ اور لکڑی پر نقش و نگار والی اشیأ بھی بڑی تعداد میں برآمد کی گئیں۔ ترجمان نے برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کردہ ایکسپورٹ سبسڈی سکیم سے بھرپور فائدہ اُٹھائیںجو کہ کسی بھی ملک کو جی آئی رجسٹرڈ ہینڈلوم یا ہینڈی کرافٹ مصنوعات کی برآمد پر کل مالیت کا 10 فیصد بطور مراعات فراہم کرتی ہے جس کی زیادہ سے زیادہ حد 5کروڑ روپے مقرر ہے۔ یہ مراعات صرف ان برآمدکنندگان کو دی جائیں گی جو محکمہ کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں۔ترجمان نے کاریگروں کی فلاح کے لئے حکومتی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محکمہ نے باغِ علی مردان خان میں واقع اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف کارپٹ ٹیکنالوجی میں ایک جدید ڈیزائن سٹوڈیو قائم کیا ہے جبکہ سکول آف ڈیزائنز اور کرافٹ ڈیولپمنٹ اِنسٹی چیوٹ کی جانب سے تیار کردہ منفرد نمونے بھی دستیاب ہیںاُنہوں نے مزید کہا، ’’ہم کاروباری شراکت داروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان جدید ڈیزائنز اور پیکیجنگ ماڈلوں سے فائدہ اُٹھائیں تاکہ عالمی اعلیٰ معیار کی منڈیوں میں اَپنی مصنوعات کی قدر و قیمت میں اِضافہ کر سکیں۔‘‘










