ہماری حکومت تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی حامی لیکن سرحدی سلامتی اور لوگوں کی حفاظت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا

مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد جموں و کشمیر میں پتھراؤ کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا / امیت شاہ

سرینگر // ہماری حکومت تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتی ہے لیکن ملک کی سرحدی سلامتی اور اس کے لوگوں کی حفاظت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل جموں و کشمیر میں پتھراؤ کے 2600 سے زیادہ منظم واقعات ہوئے اور ان واقعات میں 110 سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں اور 6000 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔اب جموں و کشمیر میں پتھراؤ کا ایک بھی واقعہ نہیں ہے جبکہ جن ہاتھوں میں پتھر ہوتے تھے ان میں اب لیپ ٹاپ تھمائیں گئے ہیں۔ سی این آئی کے مطابق ’’سیکورٹی بیونڈ ٹومورو: فارجنگ انڈیاز ریسیلیئنٹ فیوچر‘‘کے موضوع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے امیت شاہ نے کہا ’’ہماری خارجہ اور داخلی پالیسی واضح ہے۔ ہم دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ لیکن ملک کی سرحدی سلامتی اور اس کے لوگوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘ امیت شاہ نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت نے اپنے دس سال کے دوران تین داخلی سلامتی کے ہاٹ سپاٹ ،جموں و کشمیر، شمال مشرقی اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوںسے کامیابی سے نمٹا ہے؟ ۔ خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک نے حکومت کی اس پالیسی کا احترام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خوشامد کی پالیسی کی وجہ سے سابقہ حکومتوں نے داخلی سلامتی کے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔امیت شاہ نے کہا ’’ملک کے تین داخلی سلامتی کے ہاٹ سپاٹ ’جموں و کشمیر، شمال مشرقی اور ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقے‘؟۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سامنے آیا تھا‘‘۔انہوں نے کہا ’’یہ تینوں ہاٹ سپاٹ کامیابی کے ساتھ مودی حکومت کے کنٹرول میں لائے گئے اور یہ علاقے اب ہندوستان کی ترقی کے سفر کا حصہ ہیں‘‘۔امیت شاہ نے کہا کہ دہشت گردی اور شورش نے بہت سے لوگوں کو ہلاک اور زخمی کیا ہے، اور حکومت نے نہ صرف دہشت گردی بلکہ اس کے ماحولیاتی نظام پر بھی کارروائی کی ہے۔ایک مثال دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل جموں و کشمیر میں پتھراؤ کے 2600 سے زیادہ منظم واقعات ہوئے اور ان واقعات میں 110 سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں اور 6000 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔اب جموں و کشمیر میں پتھراؤ کا ایک بھی واقعہ نہیں ہے۔ پتھر بازی صفر ہے۔ شاہ نے یہ بھی کہا کہ نئے نافذ ہونے والے تین فوجداری انصاف کے قوانین کے نفاذ کے بعد یہ جدید ترین قوانین ہوں گے۔ امیت شاہ نے کہا کہ جموں کشمیر میں جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھر تھے انہوں نے وہ چھوڑ دیں اور لیپ ٹاپ نے وہاں پتھر کی جگہ لی۔