water

ہر گھر نل مشن کے باوجود بھی شہری اور دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی کا عمل متاثر

پانی سے محرومی عوام اور محکمہ پی ایچ ای کی خود غرضی کا نتیجہ ،حکام سے معاملہ حل کرنے کا مطالبہ

سرینگر / کے پی ایس //پانی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے دہائیوں سے محکمہ پی ایچ ای قائم ہے اور یہ محکمہ جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاکر پائپیوں کے ذریعے لو گوں تک پانی پہنچانے کا کام انجام دے رہاہے اور شہر و دیہات میں واٹر سپلائی اسکیم کو چالو کیا گیا ہے ۔یہاں تک وادی کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیم کو پہنچایا گیا اور حکومت نے اس اسکیم پر اربوں روپے خرچ کئے لیکن زمینی سطح پر یہ واٹر سپلائی سکیم کے ذریعے پانی کی فراہمی اب مشکل بن گئی ہے جس کے نتیجے میں شہر و دیہات کے لو گ ندی نالوں کا گندہ پانی پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جس سے مہلک بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں اور ان وبائی بیماریوں کی لپیٹ میں بے شمار لوگ آتے ہیں اور یہ جان لیوا بیماریاں کئی لوگوں کے موت کا سبب بھی بنتی ہیں۔ کشمیر پریس سروس کے موصولہ رپورٹ کے مطابق وادی کے کئی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیم قائم ہے لیکن وہ پانی کے بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں ۔ چونکہ محکمہ پی ایچ ای کی غفلت شعاری اور لاپرواہی سے اگر چہ ان جگہوں پرواٹر سپلائی سکیم بُری طرح متاثر ہوئی ہے قلت آب کی صورتحال ہر سو پیدا ہوئی ہے اور لوگ پانی کی عدم دستیابی کو لے کر متعلقہ حکام اور سرکار کے خلاف احتجاج کرتے ہیں لیکن بیشتر جگہوں پر حکام کی عدم توجہی سے مسئلہ حل نہیں ہو پاتا ہے۔ متعلقہ محکمہ کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی اس گناہ عظیم کے مرتکب ہورہے ہیں کیونکہ لوگوں نے پانی جو قدرت کی جانب سے ایک انمول نعمت ہے کی بے قدری کرنے میں کوئی کسر باقی نہیںچھوڑی ہے ۔ماضی میں یعنی دو تین دہائی قبل یہاں کے ندی، نالے ،دریا اور چشمے آب حیات کی مانند رواں دواں ہوتے تھے لیکن دانستہ طور لوگوں نے اس قدرتی نعمت کو زوال پذیر کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کی۔ کیونکہ فلش پوائنٹ تعمیر کئے گئے اگر چہ موجودہ زمانے میں اس کی کافی ضرورت تھی لیکن لوگوں نے آبی ذخائر ووسائل کے کناروں پر فلش پوائنٹوں کو تعمیر کیا ۔یا ان فلش پوائنٹوں سے پانی کی نکاسی کو بر اہ راست ان ہی ندی نالوں میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ۔ جس کے نتیجے میں یہ نعمت عظمیٰ لوگوں سے چھین لیا گیا کیونکہ اس غلطی کی وجہ سے ہماری بہتے ہوئے ندی نالے اور دریا خشک ہوگئے یا ان میں بہنے والا پانی گند آلودہ ہوگیا جو ناقابل استعمال بنا ہوا ہے ۔اس طرح سے یہ معاملہ کافی سنجیدہ نوعیت کا ہے اگر آج بھی اس پرانفرادی اور اجتماعی طور غور نہ کیاجائے تو آنے والے وقت میں یہ عام لوگوں کی زندگی کے لئے ایک بحرانی کیفیت پیدا کرے گی۔ کیونکہ گندہ پانی کے استعمال سے لوگ مختلف مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جبکہ محکمہ پی ایچ ای سرے سے ہی صاف اور فلٹرکئے ہوئے پانی کی سپلائی کرنے میں ناکام ہورہا ہے ۔اتنا ہی نہیں ہے بلکہ حد تو یہ ہے کہ محکمہ پی ایچ کی جانب سے قائم کی گئی واٹر ٹینکوں میں جانور اور پرندے گھس جاتے ہیں جن کو مرنے کے بعد بھی نکالا نہیں جاتاہے ۔ جس سے ان ٹینکوں میں موجود پانی جو لوگوں کو سپلائی کیاجارہا ہے بیماریوں کا موجب بنتا ہے۔حساس لوگوں کا انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ سرکاری طور اس معاملے کی طرف توجہ مرکوز کی جائے اور لوگ بھی انفراد ی اور اجتماعی طور متحرک ہوکر ندی نالوں ، دریائوں اورچشموں کی صفائی کرکے گندگی ڈالنے سے گریز کریںاور فلش پوائنٹوں اور باتھ رومز کے گندہ پانی کو ان آبی ذرائع میں ڈالنے سے اجتناب کریں اور واٹر سپلائی اسکیم کو مستحکم و مضبوط بنانے کے لئے فوری طور ٹھوس اور موثر اقدام اٹھائے جائیں تاکہ پانی کا یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے ہر جگہ پر حل ہوسکے اور لوگ بھی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے ۔