وادی میں نوجوانوں کی جانب سے ٹھنڈے مشروبات کی مفت سبیلیں
سرینگر/وی او آئی//وادی کشمیر ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بلند ہے اور شہر سرینگر کے گلی کوچوں سے لے کر ہائی وے تک، ہر سڑک پر سورج کی تپش بے رحمی سے برس رہی ہے۔ ایسے میں جہاں ایک طرف لوگ سائے کی تلاش میں سرگرداں ہیں، وہیں دوسری طرف ایک خوش آئند منظر سامنے آیا ہے وائس آف انڈیا کے مطابق کشمیری نوجوان جذبہانسانیت اور خدمت کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں ۔ ہاتھوں میں ٹھنڈے مشروبات، لبوں پر مسکراہٹ، اور دلوں میں ایک ہی جذبہ۔سرینگر کے خانیار، خیام ، رعناواری ، ڈلگیٹ، لال چوک، نوہٹہ، ہارون، صورہ، بٹمالو اور پانتھچوک جیسے علاقوں میں درجنوں نوجوان مختلف مقامات پر سبیلیں قائم کر چکے ہیں۔ کسی نے اپنے گھر کے سامنے پانی، روح افزا، لسی یا شربت کی بوتلیں رکھی ہیں، تو کوئی سڑک کنارے چھوٹے اسٹال لگا کر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور پیدل چلنے والوں کو روک کر خود اپنے ہاتھوں سے مشروبات پیش کر رہا ہے۔لال چوک میں ایک سبیل پر کھڑے 22 سالہ طالب علم، ارسلان بشیر، جو ایک مقامی کالج میں زیر تعلیم ہے، کہتے ہیں،جب میں خود دھوپ میں پسینے میں شرابور ہو کر کالج جاتا ہوں، تو خیال آتا ہے کہ جن لوگوں کو پینے کا پانی تک دستیاب نہیں، وہ کیا کرتے ہوں گے؟ اسی لیے ہم دوستوں نے طے کیا کہ روزانہ ایک دو گھنٹے نکال کر یہ کام کریں گے۔یہ سبیلیں صرف پانی تک محدود نہیں۔ کہیں خوشبودار روح افزا ہے، کہیں دودھ اور بادام کا شربت، تو کہیں نمکین لسی اور تھنڈا جوس بھی دستیاب ہے۔ بعض مقامات پر چھوٹے برف کے ڈرم رکھے گئے ہیں تاکہ مشروبات ٹھنڈے رہیں۔یہ سلسلہ صرف جسمانی مدد تک محدود نہیں رہا۔ نوجوانوں نے اپنے انسٹاگرام اور فیس بک صفحات پر اس اقدام کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر کے دوسروں کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دی ہے۔ جلد ہی وائرل ہو گئے۔ متعدد نوجوان گروپس نے آپس میں شراکت داری قائم کی تاکہ زیادہ سے زیادہ علاقوں میں یہ سبیلیں لگائی جا سکیں۔مقامی دکاندار، رکشہ والے، راہگیر اور سیاح سبھی ان نوجوانوں کے جذبے کی تعریف کرتے دکھائی دیے۔ ایک راہگیر نے کہا، *”جس وقت گرمی میں کسی نے آپ کو روک کر پانی پلایا ہو، وہ لمحہ کبھی نہیں بھولتا۔ یہ نوجوان ہمارے ہیرو ہیں۔جہاں ایک طرف سرکاری سطح پر اس گرمی سے نمٹنے کے لیے کوئی خاص اقدام نظر نہیں آیا، وہاں ان نوجوانوں کی خود اختیاری، منظم اور دل سے کی جانے والی یہ خدمت سچ مچ دل کو چھو لینے والی ہے۔یہ سبیلیں محض پیاس بجھانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ امید، انسان دوستی اور اجتماعی شعور کا عکاس ہیں۔ وادی کے یہ نوجوان بتا رہے ہیں کہ گرمی صرف موسم کا نام نہیں، بلکہ اس کے بیچ انسانیت کی ٹھنڈک بھی ممکن ہے — بس نیت ہونی چاہیے، اور دل میں درد۔










