19 سالہ پڑوسی نے والدہ کے ساتھ مل کر کمسن کو قتل کر دیا۔2افراد گرفتار،واقعے کے حوالے سے تحقیقات جاری: ایس ایس پی
سری نگر//شمالی کشمیر کے آورہ کپوارہ علاقے میں 20روز قبل لاپتہ ہونے والے نابالغ لڑکے کی لاش منگل کے روز نذدیکی جنگل سے ملی ہے، جو ضلع کپواڑہ کے اوورا گاؤں میں اپنے گھر سے لاپتہ ہو گیا تھا۔واقعے کے حوالے سے علاقے میں صف ماتم بیچھ گئی جبکہ ہر آنکھ نم تھی ۔اس دوران ایس ایس پی کپوارہ نے میڈیا کو بتایا واقعے کے حوالے سے بتایا کہ یہ واردات ایک 19 سالہ پڑوسی نوجوان نے اپنی والدہ کے ساتھ مل کر قتل کا یہ دل دہلانے والا واقعہ انجام دیا ہے جس کی تحقیقات جاری ہے ۔انہوں نے بتایا اس واقعے کے حوالے سے تا ھال دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پولیس تمام زاویہ سے اس کیس کو دیکھ رہی ہے جبکہ واقعے کے حوالے سے تحقیقات جاری۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے آورہ نامی گائو ں سے تعلق رکھنے 8سالہ طالب حسین کی لاش منگل کی صبح پولیس نے لاپتہ ہونے کے 20 دن بعد قریبی جنگل سے برآمد کی ہے ۔ اس دوران جب یہاں علاقے میں بچے کے قتل کے حوالے سے خبرپھیل گئی تو یہاں کہرام مچ گیا ہے جبکہ تمام لوگوںنے گھروں سے باہر آکر زور زور سے رونے لگے ہیں ۔ نہوں نے کہا کہ پولیس نے پہلے ہی معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے کہ لڑکے کی موت کیسے ہوئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ طالب 15 فروری کو گھر سے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کی تھی اور طالب کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔بچے کی لاش مل نے کے بعدایس ایس پی کپوارہ یوگل منہاس نے منگل کے روزاس دل دہلانے والے واقعے کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ایک 19سالہ پڑوسی نے اپنی ماں کے ساتھ مل کر 8 سالہ لڑکے کو قتل کردیا جس کی لاش اس کی رہائش گاہ کے قریب کے جنگلات سے ملی تھی، اس کے اچانک لاپتہ ہونے کے تین ہفتے بعد۔ پولیس نے بتایا، طالب احمد خان کے اچانک لاپتہ ہونے کے پیچھے کا معمہ پولیس نے اس وقت حل کر لیا ہے جب اس کی لاش ضلع کپواڑہ کے گاؤں اوورا کے قریبی جنگلاتی علاقے سے ملزم کے انکشاف پر برآمد ہوئی تھی۔پولیس نے کہا، “تمام آبی ذخائر، آس پاس کے جنگلوں اور مشتبہ مقامات کی پولیس نے ڈرون اور سونگھنے والے کتوں کا استعمال کرتے ہوئے تلاشی لی لیکن کوئی سراغ نہیں مل سکا،” پولیس نے مزید کہا، “گزشتہ تین ہفتوں کے دوران بڑی تعداد میں مشتبہ افراد سے مسلسل پوچھ گچھ کی گئی۔ ایس ایس پی نے کہا تفتیش کے دوران متعدد افراد کو پوچھ تاچھ کے لئے گرفتار کیا گیا ہے تاہم اصلی ملزم تک تک پہنچنے کے یہ تحقیقات کا ایک پہلو ہے ۔انہوں نے بتایاکیس کے سلسلے میں تمام ممکنہ زاویوں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد سے پوچھ گچھ کے بعد، پولیس آخر کار مرکزی ملزم کو تلاش کرنے کرنے میں کامیاب ہو گئی جس نے مسلسل پوچھ گچھ کے بعد “جرم کا اعتراف کیا اور اس کی بازیابی کا باعث بنی۔ مقتول کی لاش، “ایس ایس پی کپوارہ یوگل منہاس نے یہاں صحافیوں کو بتایا ۔پولیس اور یہاں تک کہ سول سوسائٹی کے کچھ سرکردہ افراد نے بھی جو بھی اس معصوم بچے کا سراغ لگانے میں مدد کرے گا اس کے لیے انعام کا اعلان کیا تھا۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ اس کیس میں ملزم عامر احمد خان (19 ولد محمد امین خان اور اس کی والدہ شہنازہ بیگم (37) متاثرہ کا پڑوسی نکلا ہے۔ تاہم اس لرزہ خیز واقعے کے پیچھے کی وجہ ابھی بھی تفتیش کا حصہ ہے، پولیس نے کہاپوسٹ مارٹم کے بعد طالب کو ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ افسر نے مزید کہا کہ ایڈیشنل ایس پی پردیپ سنگھ، ڈی وائی ایس پی ہیڈکوارٹر راشد یونس، انسپکٹر نذیر احمد (ایس ایچ او ایف تھانہ ترہگام) اور اظہر شکیل (آئی سی پی پی) اوورا کی قیادت میں پولیس ٹیموں نے انتھک کوششوں کے بعد کیس پر کام کیا۔










