کپرن کھاہ ڈار سے بٹہ پورہ تانترے پورہ تک سڑک کی خستہ حالی

پر عوام سراپا احتجاج،لیفٹیننٹ گورنر و ضلعی انتظامیہ سے فوری مداخلت کی اپیل

سرینگر/وی او آئی//کپرن کے پہاڑی علاقے کھاہ ڈار سے بٹہ پورہ تک کی سڑک کی خستہ حالی نے مقامی آبادی کی زندگی کو مستقل عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ گھتی پورہ آج بھی بنیادی سہولیات، خاص طور پر قابلِ آمد و رفت سڑک سے محروم ہے، جس کے باعث وہاں کی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔گھتی پورہ کی بستی تقریباً 60 گھروں پر مشتمل ہے جو ایک بلند پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔ یہاں کے رہائشی روزمرہ کی بنیادی ضروریات، جیسے راشن، آٹا، سبزیاں، ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت، بازاروں سے خود اپنے کندھوں پر اٹھا کر کئی کلومیٹر پیدل سفر طے کر کے گھروں تک لے جانے پر مجبور ہیں۔سردیوں کے مہینوں میں جب علاقے میں شدید برفباری ہوتی ہے تو صورتحال اور بھی ابتر ہو جاتی ہے۔ نہ گاڑیاں چل سکتی ہیں، نہ ہی لوگ آسانی سے نقل و حرکت کر پاتے ہیں۔ایک مقامی بزرگ عبد الستار تانترے کا کہنا ہے اگر بازار سے باجری کا ایک ٹرک 1500 روپے میں دستیاب ہو، تو اسے ہماری بستی تک پہنچانے کے لیے 3500 روپے کرایہ دینا پڑتا ہے، کیونکہ گاڑی راستے میں نہیں آ سکتی۔اسی طرح مشتاق احمد نامی نوجوان نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم ڈیڑھ کلومیٹر کی پیدل مسافت طے کر کے گھتی پورہ تک راشن لاتے ہیں۔ ہماری بستی میں 60 گھرانے بستے ہیں، لیکن ان کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پیر زادہ شاہ باز صاحب نے سڑک کی تعمیر کی کوشش ضرور کی تھی، لیکن وہ سڑک ادھوری ہی رہ گئی۔ہم نے کئی بار ایم ایل اے ڈورو غلام احمد میر سے اپیل کی، لیکن مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ چاول کا ایک بیگ کندھے پر اٹھا کر لاتے ہیں، اور صرف پیدل چل کر گھروں تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ اگر کسی کو گھر بنانا ہو تو ریت، باجری، لکڑی، ٹین وغیرہ سب کچھ مزدوروں کے ذریعے کندھوں پر لانا پڑتا ہے۔ غریب لوگ یہ اخراجات کیسے برداشت کریں گے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سڑک کا کام کچھ وقت کے لیے شروع ہوا تھا، لیکن اچانک روک دیا گیا۔ اب حالت یہ ہے کہ نہ سڑک مکمل ہے، نہ آمدورفت کے قابل۔ یہ سڑک اس قدر خستہ اور خطرناک حالت میں ہے کہ اس پر پیدل چلنا بھی جان جوکھم کے مترادف ہے۔اگر خدانخواستہ کوئی طبی ایمرجنسی ہو جائے تو مریض کو کندھوں پر اٹھا کر نیچے لانا پڑتا ہے، جو نہایت خطرناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ یہ پہاڑی علاقہ بازار سے کئی گھنٹوں کی دوری پر واقع ہے، اور یہاں تک کوئی بھی بنیادی سہولت بہ آسانی میسر نہیں۔مقامی عوام کا کہنا ہے کہ وہ متعدد بار حکام سے فریاد کر چکے ہیں، لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔اب علاقے کی عوام نے گورنر جموں و کشمیر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، ڈپٹی کمشنر اننت ناگ، اور مقامی ایم ایل اے سے پْرزور اپیل کی ہے کہ کھاہ ڈار سے بٹہ پورہ تانترے وارڈ نمبر 7 تک سڑک کی تعمیر فوری مکمل کی جائے تاکہ علاقے کے رہائشیوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اور انہیں ایک باعزت زندگی گزارنے کا حق مل سکے۔