مرکزی وزیر نے پائین باغبانی، زعفران اور دیہی ترقی کے لیے اہم اعلانات کیے؛ 5 لاکھ خاندانوں کو گھروں کی یقین دہانی
سرینگر/وی او آئی//مرکزی وزیر برائے زراعت و دیہی ترقی، شیو راج سنگھ چوہان نے جمعے کو کشمیر کا دورہ کرتے ہوئے ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلاخوف و خطر جموں و کشمیر آئیں اور یہاں کے لوگوں کی محبت و مہمان نوازی کا تجربہ کریں۔وائس آف انڈیا کے مطابق سرینگر میں شیرِ کشمیر یونیورسٹی برائے زرعی سائنس و ٹیکنالوجی (SKUAST) کے چھٹے کانووکیشن کے موقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، *”میں اپنے ملک کے عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں کے لوگ آپ کا دل سے استقبال کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ بلاخوف یہاں آئیے اور محبت و بھائی چارے کی نئی مثال قائم کیجیے۔مرکزی وزیر کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پچھلے کچھ عرصے میں دہشت گردانہ حملوں، خاص طور پر 22 اپریل کے پہلگام حملے کے بعد وادی میں سیاحت کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔ اس واقعے میں 25 سیاح اور ایک مقامی پونی والا ہلاک ہوا تھا۔شیو راج چوہان نے کہامیں گزشتہ روز سے سرینگر میں ہوں اور مسلسل یہاں کے لوگوں سے مل رہا ہوں۔ یہاں کی فضا کی خاموشی، مٹی کی خوشبو، قدرتی خوبصورتی اور عوام کی محبت نے میرا دل جیت لیا ہے۔ یہ واقعی بھارت کا تاج ہے، جنت کا نظارہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں ڈل جھیل بھی گیا، شکارہ کی سواری کی۔ ایک لمحہ جو میرے دل کو چھو گیا، وہ تھا جب ایک شکاراوالا مجھ سے بولا: ‘ماماجی، لوگوں سے کہیے کہ یہاں آئیں، ہمارے دل ان کے لیے محبت سے بھرے ہیں۔مرکزی وزیر نے اپنے دورے کے دوران جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی اور زراعت و دیہی ترقی کے منصوبوں پر گفتگو کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مرکزی حکومت یہاں 150 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک کلین پلانٹ سینٹر قائم کرے گی، جو سیب، بادام اور اخروٹ جیسے پھلدار پودوں کی بیماری سے پاک قلمیں فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ نرسری قائم کرنے والوں کو سبسڈی دی جائے گی اور زعفران کے لیے ٹشو کلچر لیبارٹری بھی قائم کی جائے گی تاکہ اس قیمتی فصل کی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔شیو راج چوہان نے اس موقع پر ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت 5 لاکھ خاندانوں کا سروے مکمل ہو چکا ہے اور تصدیق کے بعد انہیں گھر دیے جائیں گے۔کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے SKUAST کشمیر کی تعلیمی کارکردگی کو سراہا اور کہا، ہم ریاستی یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں پانچویں نمبر پر ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ جلد ہی ہم پہلے نمبر پر ہوں گے۔آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ کشمیر کا سیب دنیا کے کونے کونے تک پہنچے گا اور بھارت کو دنیا کی خوراکی ٹوکری بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔










