kpdcl

ڈِی ٹی کا بڑھتا ہوا نقصان تشویشناک علامت ہے۔ چیف اِنجینئر کے پی ڈِی سی ایل

سری نگر//چیف اِ نجینئر ڈِسٹری بیوشن کشمیر پاور ڈِسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈِی سی ایل) اِنجینئر عاقب ایس وحید دیوا نے کروڈ ہیٹنگ گیجٹس کے غیر مجاز اِضافی بوجھ کی وجہ سے ڈی ٹی سب سٹیشنوں کو بڑھتے ہوئے نقصان کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اِظہار کیا۔چیف اِنجینئر نے آج یہاں جاری ایک پریس بیان میں الیکٹرک ڈویژن اننت ناگ میں بون دیالگام اورالیکٹرک ڈویژن گاندربل میں تولہ مولہ میں رِپورٹ ہونے والے واقعات کا حوالہ دیا جہاں غیر منظور شدہ ہیٹنگ لوڈ کی زد میں آنے کے بعد ڈی ٹی سب سٹیشن مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔ اُنہوں نے صارفین پر زور دیا کہ وہ شدید سردیوں میں اَپنے ڈی ٹیز کو اوور لوڈ کرنے سے گریز کریں اور بجلی کی بندش کی نوبت نہ آنے دیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’ہم روزانہ 50 ڈی ٹی کی مرمت اور بحالی کے چیلنج کو پورا کر رہے ہیں اور پانپور میں ہماری مرکزی ورکشاپ اور ڈویژنل ورکشاپ چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔اُنہوں نے صارفین کو یقین دِلایا کہ اگر وہ مناسب طریقے سے بجلی اِستعمال کرتے ہیں تو وہ کٹوتی شیڈول کے مطابق قابل اعتماد بجلی فراہم کی جائے گی۔اُنہوں نے کہا،’’ہمارے گھر پر سی او پی ڈی کے مریض ہیں اور اِمتحانات کی تیاری کر رہے طالب علم ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ صارفین ان مشکلات کو سمجھیں گے جن کا سامنا لوگوں کو ہوتا ہے جب ڈی ٹیز کو نقصان پہنچتا ہے جس کی وجہ سے گھنٹوں بجلی کی کٹوتی ہوتی ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ صرف گزشتہ چاردِنوں میں 192 ڈی ٹیز کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے کچھ میں آگ بھڑک اٹھی ہے جس سے آس پاس کے رہائشیوں کی املاک کو خطرہ لاحق ہوا اور گھروں میں مہنگے الیکٹرانک آلات کو نقصان پہنچا ہے۔ اِسی مدت میں کے پی ڈِی سی ایل نے 192 ڈی ٹی کو بھی تبدیل کیا۔ڈی ٹیز کو نقصان سے بچانے کی کوشش میں تمام 19 الیکٹرک ڈویژنوں کے انسپکشن سکارڈ روزانہ صبح اور رات گشت کر رہے ہیں تاکہ بعض صارفین کی جانب سے منظور شدہ لوڈ سے زیادہ بجلی اِستعمال کرنے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔کے پی ڈِی سی ایل نے بجلی چوری کو روکنے کے لئے صرف ہفتہ کو 884 انسپکشن ڈرائیوز کیں جس میں او اینڈ ایم سرکل پلوامہ 242 مہمات کے ساتھ سرفہرست رہا۔ او اینڈ ایم سرکل II سری نگر نے 160 اور او اینڈ ایم سرکل گاندربل نے 159 مہمات چلائی۔اِنجینئر عاقب وحید دیوا نے میٹر والے علاقوں میں رہنے والے صارفین کو متنبہ کیا کہ اگر وہ اپنے میٹر بائی پاس کرتے اور کروڈ کنڈکٹر پر ہکنگ کرتے پائے گئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو بجلی ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے کہا ،’’سرکل سکارڈ کے علاوہ سینٹرل انسپکشن سکارڈ بھی ان صارفین کو پکڑنے کے لئے معائینہ کر رہا ہے جو غیر مجاز طریقے سے اپنے میٹروں سے چھیڑ چھاڑ یا بائی پاس کرکے بجلی کا استعمال کرتے ہیں۔‘‘