جموں//گورنمنٹ کالج فار وومن (جی سی ڈبلیو)کے پریڈ گراؤنڈ میں رنگ یُگ اور جموں و کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لنگویجزکے اِشتراک سے منعقدہ ہفتہ بھر جاری چھاؤ ورکشاپ آج اِختتام پذیرہوا۔اِس موقعہ پرکمشنر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر ریشمی سنگھ مہمان خصوصی اور ڈائریکٹر کالجز ڈاکٹر شیخ اعجاز بشیر مہمانِ ذِی وقار کی حیثیت سے موجود تھے۔اِس موقعہ پر دیگر معززین میں نوڈل پرنسپل پی ایس پی ایس گورنمنٹ پی جی کالج فار وومن گاندھی نگر ڈاکٹر ایس پی سرسوات،پرنسپل جی سی ڈبلیو پریڈ گراؤنڈ ڈاکٹر رویندر کمار تِکو،ڈائریکٹر رنگیوگ دیپک کمار، پدم شری راجندر تِکو، سریش کمار شرما (ریٹائرڈ جج)، ایس پی آئی سی۔ایم اے سی اے وائی جموں و کشمیر چپٹر کے کنوینئر اورآرٹ مورخ ڈاکٹر للت گپتا شامل تھے۔اِس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری نے خطاب کرتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مقاصد کے مطابق تعلیم اور ثقافت کا ایک منفرد امتزاج قرار دیا۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کس طرح یہ ورکشاپ این اِی پی کے نظریۂ کے مطابق ہے جس کا مقصد ایک جامع اورکثیر شعبہ جاتی تعلیم کو فروغ دینا ہے جو تعلیمی علم اور زندگی کی مہارت دونوں کو ضم کرتی ہے، جو طلبأکی مجموعی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ڈاکٹر رشمی سنگھ نے جی سی ڈبلیو پریڈ میں نئے متعارف کئے گئے ہنر پر مبنی تھیٹر کورس کی اہمیت پر روشنی ڈالی جس کا مقصد طلبأ کو عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے جو ان کی تعلیمی تعلیم کی تکمیل کرتی ہے۔ اُنہوں نے رنگ یُگ اور کلچرل اکیڈیمی کے ساتھ گرانقدر اشتراک کا اعتراف کیا جنہوں نے ورکشاپ کی کامیابی میں کلیدی رول اَدا کیا۔کمشنر سیکرٹری نے جی سی ڈبلیو پریڈ کے ’ڈیزائن یور ڈِگری‘ اقدام کی بھی سراہنا کی جو طلبأکو ان کی ذاتی دلچسپیوں اور کیریئر کے اہداف کی بنیاد پر اپنے تعلیمی پروگراموں کو اپنی مرضی کے مطابق بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ اِس طرح اُنہیں اَپنے تعلیمی سفر کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے بااختیار بنا تے ہیں۔ڈاکٹر شیخ اعجاز بشیر نے اَپنے خطاب میں ورکشاپ کی کامیابی کو سراہتے ہوئے مستقبل کے لئے تیار طلباء کی تشکیل میں ثقافتی اور ہنر پر مبنی اقدامات کے کردار پر زور دیا۔ اُنہوں نے ثقافتی کھوج اور سیکھنے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے میں جی سی ڈبلیو پریڈ اور اس کے معاونین کے مابین ہم آہنگی کی ستائش کی۔اِس سے قبل رویندر تِکو نے اَپنے اِستقبالیہ خطاب میں کالج کے نئے متعارف کئے گئے سکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے حصے کے طور پر پرفارمنگ آرٹس کو تعلیمی شعبے میں ضم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ورکشاپ کا مقصد طلبأ کو چھاؤ سے متعارف کرنا ہے جو روایتی ہندوستانی آرٹ کی شکل ہے جس میں مارشل آرٹس ، کہانی سنانے اور جسمانی مومنٹ کو یکجا کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شرکأنے مختلف تکنیک سیکھی جس سے ان کی جسمانی تندرستی، طاقت اور برداشت کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔سکل ڈیولپمنٹ سیل کی کنوینر ڈاکٹر الپنا ووہرا نے ورکشاپ کی جھلکیاں اور شرکأ پر اس کے تبدیلی کے اثرات کا جائزہ پیش کیا۔ ان میں جی سی ڈبلیو پریڈ، گورنمنٹ ایس پی ایم آر کالج، پی ایس پی ایس، جی سی ڈبلیو گاندھی نگر، جی جی ایم سائنس کالج، جی ڈی سی اکھنور اور جموں بھر کے دیگر اِداروں کے خواہشمند اداکار، ڈانسر اور تھیٹر کے شوقین افراد شامل تھے جنہوں نے ہفتہ بھر کی ورکشاپ میں بڑھ چڑھ کر اور سرگرمی سے حصہ لیا۔اِس موقعہ پر شرکأ نے ریسورس پرسنوں کی رہنمائی میں اَپنی نئی حاصل کردہ صلاحیتوں کو پیش کرتے ہوئے ایک ڈیمانسٹریشن کم پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔جموں میں اپنی نوعیت کی پہلی چھاؤ ورکشاپ ثقافتی ورثے کو فروغ دینے اور طلبأ کو ان کی مجموعی ترقی کے لئے منفرد مہارتوں کے ساتھ بااِختیار بنانے میں جی سی ڈبلیو پریڈ، رنگ یُگ اور کلچرل اَکیڈیمی کے عزم کا ثبوت ہے۔معززین نے جی سی ڈبلیو پریڈ کا ایک جدید پروگرام ’ڈیزائن یور ڈگری‘انیشی ایٹیو پر ایک نیوز لیٹر بھی جاری کیا ۔تقریب کے اِختتام پر سکل ڈیولپمنٹ سیل کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر گرپریت کور نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔










